منگلورو ،6 / جولائی (ایس او نیوز) دکشن کنڑا اور اڈپی ضلع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ڈینگی کے معاملات میں دوگنا اضافے کے پیش نظر اس کی روک تھام کے لئے اقدامات تیز کر دئے گئے ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر منگلورو کے وینلاک اسپتال میں ڈینگی مریضوں کے لئے اسپیشل وارڈ محفوظ کیا گیا ہے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ضلع میں وقفے وقفے سے ہو رہی برسات کی وجہ سے مچھروں کی افزائش کے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے اور ان مچھروں کی وجہ سے ڈینگی بخار کے معاملوں میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے ۔
ڈینگی کی وبا پر قابو پانے کے لئے فی الحال وینلاک اسپتال میں ایک 15 بستروں والا جنرل وارڈ اور ایک وینٹر کی سہولت والا 8 بستروں کا وارڈ مختص رکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ تعلقہ سطح پر ڈینگی کے معاملات کی جانچ اور نگرانی کا کام جاری ہے ۔
محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فی الوقت دکشن کنڑا میں جملہ 263 ڈینگی کے مریض پائے جاتے ہیں جن میں سے 113 معاملے منگلورو سٹی میونسپل کارپوریشن کے حدود میں موجود ہیں ۔ ان میں سے 30 معاملے ایکٹیو ہیں اور زیادہ تر مریض گھروں پر ہی صحت یاب ہو رہے ہیں ۔
گزشتہ سال اسی دورانیہ میں ڈینگی کے 120 معاملے سامنے آئے تھے جبکہ اگست کے مہینے میں اس میں اچھا خاصہ اضافہ ہوا تھا ۔اس کے مقابلے میں امسال جون کے مہینے میں بارش شروع ہونے کے ساتھ ہی ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ ایک خاص بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس مرتبہ ڈینگی سے متاثرہ افراد میں زیادہ تعداد مہاجر مزدوروں کی ہے ، لیکن اس بیماری کے مرکزی مقام کے طور پر کسی بھی علاقے کی نشاندہی ابھی تک نہیں ہوئی ہے ۔ مختلف علاقوں میں یہ مرض پھیلا ہوا ہے ۔
اڈپی ضلع سے ملی رپورٹ کے مطابق یہاں ڈینگی کے 182 معاملے سامنے آئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں چوگنا اضافہ ہوا ہے ۔ حالانکہ یہاں کسی اسپتال میں ڈینگی کے لئے مخصوص وارڈ محفوظ نہیں کیا گیا ہے ، لیکن بیماری کی شدت اور علامات کے پیش نظر اسپتالوں میں مناسب علاج کیا جا رہا ہے ۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال اسی دورانیہ میں ڈینگی کے صرف 45 معاملے دیکھے گئے تھے ۔ اس وقت ڈسٹرکٹ اسپتال میں 4 مریضوں کا علاج چل رہا ہے جبکہ 20 مریض پرائیویٹ اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ 125 مریض اڈپی ڈسٹرکٹ اسپتال سے اپنا علاج کروا رہے ہیں ۔
اڈپی ضلع کے جملہ ڈینگی کے معاملوں میں اڈپی شہر و اطراف کے 112 ، کنداپور 43 ، کارکلا 27 اور منی پال انڈسٹریل ایریا کے 28 معاملے شامل ہیں۔