نئی دہلی، 7/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) ہندوستان میں لوک سبھا انتخاب کے دن اب انتہائی قریب ہیں۔ سات مراحل میں مکمل ہونے والے اس انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا پہلا مرحلہ 19 اپریل کو ہے اور سبھی پارٹیاں انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ لیڈران اپنے مخالفین کے خلاف بیان بازیاں بھی کر رہے ہیں۔ اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سال ہونے والا لوک سبھا انتخاب غیر جانبدار نہیں ہے۔
ہفتہ کے روز جئے رام رمیش نے یہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’لوک سبھا انتخاب غیر جانبدار نہیں ہے، اس کے باوجود ’5 نیائے‘ اور 25 گارنٹی پر عوام کے بھروسہ کے سبب اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کو واضح اکثریت ملے گی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ عوام انتخاب کو غیر آزادانہ بنانے کی وزیر اعظم مودی کی سبھی کوششوں کو نتیجہ خیز طور سے خارج کریں گے۔ ’10 سال انیائے کال‘ کے خلاف عوام میں زبردست ناراضگی ہے اور اس کا اثر انتخابی نتائج میں دیکھنے کو ملے گا۔
جئے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے تازہ تبصرہ پر بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ دراصل انھوں نے حال ہی میں ایک بیان دیا تھا جس میں کہا تھا کہ یہ نیا ہندوستان ہے جو دشمن کے علاقے میں حملے کرتا ہے۔ جئے رام رمیش نے اس پر کہا کہ ’’یہ دھیان بھٹکانے کی پالیسی ہے جس کا مقصد کانگریس کے 5 نیائے، 25 گارنٹی اور اصل انتخابی منشور سے توجہ ہٹانا ہے۔‘‘