نئی دہلی:۲۷؍اکتوبر (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) آئے دن شریعت اسلامی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ طلاق کا مسئلہ، کبھی فتووں کو لیکر کبھی حجاب، داڑھی، ٹوپی کبھی مدارس، قبرستان کو لیکر مسلسل مسلمانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے لئے ضروری بن جاتا ہے کہ ہم حالات سے واقف ہوں اور جو حملے شریعت پر ہورہے ہیں اسکا منھ توڑ جواب دیں، ان باتوں کا اظہار محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسؤلہ شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کیا۔ وہ تمل ناڈو کے میل وشارم میں ویمنس ونگ(شعبہ خواتین) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں ہزاروں کی تعداد میں شریک خواتین سے خطاب فرما رہی تھی۔
موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے محترمہ نے فرمایا کہ آج جب دشمنان اسلام شریعت کو نشانہ بنارہے ہیں اور خواتین کی ہمدردی کا نعرہ دے رہے ہیں، ایسے وقت میں یہ ہماری دینی ملی ذمہ داری ہے کہ شریعت کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں۔ آگے کہا کہ تحفظ شریعت اصلاح معاشرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تحفظ شریعت کے دو طریقے ہیں، ایک تو اس ملک ہندوستان میں مسلمانوں کے جو حقوق ہیں اسکے تحفظ کے لئے عدالت میں کوشش کی جائیں، دوسرا طریقہ نفاذ شریعت ہے۔ ہمارے سماج اور معاشرہ گھر اور خاندانوں میں شریعت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔حقوق کی ادائیگی چاہے وہ شوہر کے حقوق ہوں یا بیوی کے، والدین کے حقوق اور اولاد کے حقوق اسکے سلسلے میں عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔ حقوق کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریعت اللہ اور اس کے رسولؐ کا دیا ہوا قانون ہے اور اس میں پوشیدہ حکمت کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو۔ شریعت اسلامی میں خواتین کو باعزت مقام بحیثیت ماں، بہن بیٹی، بیوی کے عطا کیا گیا۔ دنیا کا کوئی قانون کوئی تہذیب، عدالت عورت کو وہ مقام نہیں دے سکتا جو اسلام نے اسے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں تقویٰ کی صفت کو بڑھانا ہے اور تقویٰ نیکی کی بنیادوں پر ہمیں اپنے معاملات، رشتے اور تعلقات بنانے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کی نظر میں سب سے بہترین انسان وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ جس کے اندر تقویٰ ہو۔ آج کا دور مادہ پرستی کا دور ہے، ہمارے سماج پر مغربی تہذیب کی یلغار اور باطل تہذیب کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ عقائد، افکار، اخلاق، آداب زندگی کو خالص قرآن اور حدیث کی روشنی میں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کے ایچ گرلس میٹریکولیشن اسکول میں دوپہر ۲؍بجے منعقد ہوا۔ سیمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محترمہ اے امیرالنساء صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ چنئی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے میل وشارم میں علماء کی جانب سے اصلاح معاشرہ اور تحفظ شریعت کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس علاقے میں دینی و عصری ملی اداروں کی جانب سے مستقل کوششیں جاری ہیں، خواتین میں دین اور شریعت کی محبت بے انتہاء پائی جاتی ہے، انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کا تعارف پیش کیا اور ویمنس ونگ کی جانب سے پہلا پروگرام تامل ناڈو میں منعقد کرنے پر بورڈ کے ذمہ داروں کو سراہا۔
مولانا مفتی شفیق احمد صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم بڑودہ گجرات نے افتتاحی کلمات پیش کئے، قرآن کی آیتوں کی روشنی میں زندگی گذارنے شریعت کی اہمیت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا ڈر تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کریں، آخرت کی فکر کریں، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ شریعت ایک نعمت ہے اس کی قدر کریں۔
اجلاس میں ۵؍ہزار سے زائد خواتین اور طالبات موجود تھیں۔ محترمہ ہاجرہ صاحبہ کی دعاء پر اجلاس اختتام کو پہنچا۔