لاہور،3اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں عدالت نے 20 افراد کے قتل کے مرکزی ملزم عبدالوحید اور ان کے تین ساتھی ملزمان محمد آصف، ظفر علی اور کاشف کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ہلاکتوں کا یہ واقعہ سنیچر کی شب سامنے آیا تھا جب پولیس کو علم ہوا کہ چک 95 شمالی نامی گاؤں میں قائم درگاہ علی محمد قلندر کے متولی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تین خواتین سمیت 20 افراد کو لاٹھیوں اور چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کیا ہے۔
پولیس نے عبدالوحید کو اس کے ساتھیوں سمیت حراست میں لینے کے بعد اس واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت چٹھہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے۔اس واقعے کی ایف آئی آر میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تمام مادی شہادتوں اور آلات قتل کو برائے تجزیہ کیمیائی پنجاب فارانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوایا کا چکا ہے۔عبدالوحید نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے 'مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ انھیں زہر دینے کی سازش میں ملوث تھے۔ملزم عبدالوحید ماضی میں پنجاب الیکشن کمیشن میں ملازم رہ چکا ہے۔