نئی دہلی، 2/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) منگل کو راجیہ سبھا کی کارروائی کے دوران چیئرمین اور نائب صدر جگدیپ دھنکھر اور کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اس دوران چیئرمین نے کھرگے کے تئیں ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جتنی کرسی کی توہین کسی نے نہیں کی ہے۔ دھنکھر نے خبردار کیا کہ آپ ہر بار کرسی نیچے نہیں کر سکتے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری اپنے خطاب میں مرکزی حکومت کو نشانہ بنا رہے تھے۔
انہوں نے منی پور، کالے دھن اور لداخ کے مسائل پر مرکز پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے پچھلے 10 سالوں میں جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ جب پرمود تیواری یہ کہہ رہے تھے تو کانگریس ایم پی جے رام رمیش نے کچھ کہنا شروع کردیا، جس پر چیئرمین نے سخت اعتراض کیا۔
اس کے بعد پرمود تیواری نے اپنا خطاب دوبارہ شروع کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے معاملے پر مرکز پر حملہ بولا اور کہا کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور یہاں بڑھیں، وزیر اعظم کے اپنے دوستوں کا اس سے کچھ لینا دینا ہے۔ اس پر چیئرمین نے پرمود تیواری کو روک دیا کہ وہ حقائق کے بغیر ایسے الزامات نہ لگائیں۔ اس دوران جے رام رمیش دوبارہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کچھ کہنے لگے۔
اس کے بعد چیرمین نے دوبارہ جے رام رمیش کے تئیں ناراضگی ظاہر کی اور طنز کیا کہ جے رام رمیش اتنے ذہین ہیں کہ انہیں کھرگے کی جگہ بیٹھنا چاہیے۔ کھرگے نے اس پر اعتراض کیا اور اپنے پاس بیٹھی سونیا گاندھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، جس نے مجھے (راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر) بنایا وہ یہاں بیٹھی ہیں، محترمہ سونیا گاندھی۔ نہ رمیش مجھے بنا سکتے ہیں اور نہ آپ مجھے بنا سکتے ہیں۔ کھرگے کے اس بیان پر چیئرمین جگدیپ دھنکھر غصے میں آگئے۔
انہوں نے کہا، آپ ہر بار کرسی نیچے نہیں کر سکتے۔ آپ ہر بار کرسی کی بے عزتی نہیں کر سکتے۔آپ اچانک کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھے بغیر کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اس ملک اور پارلیمانی جمہوریت اور راجیہ سبھا کی کارروائی کی تاریخ میں کرسی کی اتنی بے توقیری کبھی نہیں ہوئی جتنی آپ نے کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ خود کو دیکھیں۔
پیر کو بھی راجیہ سبھا میں چیئرمین دھنکھر اور کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ درحقیقت، کھرگے نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ تعلیمی اداروں پر آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ چیئرمین نے اس پر اعتراض کیا اور ان کے بیان کو راجیہ سبھا کی کارروائی سے ہٹانے کی ہدایت دی۔ چیئرمین نے سوال کیا کہ کیا کسی بھی تنظیم کا ممبر ہونا جرم ہے؟ آپ جو کہتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔
کیا آر ایس ایس کا رکن ہونا جرم ہے؟ یہ ایک ادارہ ہے، جو قوم کے لیے کام کر رہا ہے، ملک کے لیے اپنا یوگدان دے رہا ہے۔ اس پر کھرگے نے کہا کہ سنگھ کا نظریہ ملک کے لیے خطرناک ہے۔ چیئرمین نے کھرگے کے اس بیان کو ریکارڈ سے ہٹانے کی بھی ہدایت دی۔