دمشق۔16مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس)شام کے دارالحکومت دمشق میں مرکزی ایوانِ عدل کے اندر خود کش بم دھماکے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے دمشق کے علاقے ربوہ میں ایک ریستوراں میں ایک اور خودکش بم دھماکے کی اطلاع دی ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔دمشق کے پولیس سربراہ محمد خیر اسماعیل نے سرکاری ٹیلی ویڑن کو بتایا ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس حملہ آور نے بدھ کی دوپہر ایک بج کر بیس منٹ پر ایوان عدل کے داخلی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس نے شاٹ گن اور دستی بم بھی پکڑ رکھے تھے۔انھوں نے بتایا ہے کہ اس کو سکیورٹی اہلکاروں نے داخلی دروازے پر روکا اور اس سے ہتھیار لینے کے بعد اس کی تلاشی لینے لگے تو اس دوران میں وہ عمارت کے اندر گھس گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دمشق کا ایوان عدل مشہور بازار حمیدیہ کے نزدیک واقع ہے۔شام کے اٹارنی جنرل احمد آل سید نے،جو بم دھماکے کی جگہ سے چند میٹر کی دوری پر اپنے دفتر میں موجود تھے،سرکاری ٹیلی ویڑن سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سربراہ کے اس بیان کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے مزید یہ کہا ہے کہ سکیورٹی محافظوں نے اس کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے ایوان عدل میں موجود وکلاء ، جج صاحبان اور بے گناہ عام لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے خود کش بم دھماکے میں تیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اخباریہ ٹی وی چینل نے ربوہ کے علاقے میں دوسرے خودکش بم دھماکے کے بارے میں یہ اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کا پیچھا کیا تھا لیکن وہ ایک ریستوراں میں گھسنے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے وہاں اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔اس بم دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔فوری طور پر کسی گروپ نے دمشق میں ان دونوں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔اس سے پہلے گذشتہ ہفتے کے روز شامی دارالحکومت میں مشہورمزارات کے نزدیک دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے۔ان میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور شام میں ماضی میں القاعدہ سیو ابستہ جنگجو تنظیم جبہ? فتح الشام نے ان دونوں بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فلسطینی ڈاکٹر کا 2009ء کی غزہ جنگ میں شہید بچیوں کے انصاف کا مطالبہ بدھ 17 جمادی الثانی 1438?? - 15 مارچ 2017مڈاکٹر عزالدین ابوالعیش اور ان کی دو بیٹیاں شطحہ (دائیں) اور رفح مقبوضہ بیت المقدس میں نیوز کانفرنس سے
ایک فلسطینی ڈاکٹر نے اسرائیل کی 2009ء میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران میں شہید ہونے والی تین بیٹیوں اور ایک بھتیجی کا انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ چاروں فلسطینی بچیاں جنوری 2009ء میں شہید ہوئی تھیں اور ڈاکٹر عزالدین ابوالعیش نے ان کی ناگہانی موت پر اسرائیل سے ہرجانے کے حصول کے لیے مقدمہ دائر کررکھا ہے۔اس کی آج بدھ سے سماعت شروع ہورہی ہے۔ڈاکٹر ابوالعیش نے مقبوضہ بیت المقدس میں اس مقدمے کی سماعت سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے لیے یہ ایک جذباتی لمحہ ہے لیکن میں آپ سب لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں یہاں اپنے دفاع کے لیے نہیں آیا ہوں بلکہ انصاف اور امید کی وکالت کے لیے آیا ہوں“۔انھوں نے کہا کہ ”اس المیے اور ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا،اس سب کے باوجود میں اپنے پیارے بچوں کی وجہ سے موت سے زندگی کی جانب لوٹنے کے قابل ہوگیا تھا“۔ڈاکٹر ابوالعیش نے منگل کے روز اسرائیلی پارلیمان کی ایک کمیٹی کے ارکان کے روبرو بھی اپنا موقف بیان کیا تھا۔ڈاکٹر ابوالعیش غزہ میں بچیوں کی شہادت کے وقت ایک اسرائیلی اسپتال میں کام کرتے تھے۔وہ عبرانی زبان میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ معاوضے میں ملنے والی تمام رقم کو خواتین کی تعلیم کے لیے وقف ایک خیراتی ادارے کو دے دیں گے۔یادرہے کہ انھوں نے اپنی تینوں بچیوں کی شہادت کے واقعے کے فوری بعد ایک اسرائیلی ٹیلی ویڑن سے گفتگو کی تھی جس کی وجہ سے اس واقعے کی پوری دنیا میں تشہیر ہوئی تھی۔انھوں نے تب چلاتے ہوئے کہا تھا:”وہ لڑکیاں تھیں،صرف لڑکیاں،ان پر کیوں بمباری کی گئی اور انھیں جان سے مار دیا گیا ہے“۔ ان تینوں فلسطینی بچیوں کی عمریں بیس، چودہ اور تیرہ سال تھیں۔اسرائیلی فوج نے تحقیقات کے بعد اعتراف کیا تھا کہ اس کے فوجی ان بچیوں کی اموات کے ذمے دار ہیں اور انھوں نے حماس کے کارکنوں کے شْبے میں انھیں نشانہ بنایا تھا۔
تاہم وکلائے صفائی نے اسرائیلی فوجیوں کے دفاع میں نئی من گھڑت کہانی گھڑی ہے اور عدالت میں نئی دستاویزات پیش کی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کے جسموں سے ملنے والے اجزاء سے یہ پتا چلا تھا کہ ان کے مکان میں ایسا دھماکا خیز مواد موجود تھا جو اسرائیلی فوج نے استعمال ہی نہیں کیا تھا۔لیکن ڈاکٹر ابوالعیش نے ایسے دعووں کو غیر اخلاقی،بد نیتی پر مبنی اور پاگل پن قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔اپنی بچیوں کی شہادت کے بعد ڈاکٹر ابوالعیش اپنے باقی بچوں کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور وہاں انھوں نے ”میں نفرت نہیں کروں گا“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔اس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مصالحت کو موضوع بنایا گیا ہے۔انھوں نے اپنی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ”ہم یہاں بسام،مایار،آیا اور نور کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ آپ زندہ ہیں اور جب تک ہم زندہ ہیں،ہماری سانسیں باقی ہیں،ہم آپ کو زندہ رکھیں گے“۔انھوں نے سنہ 2010ء میں اسرائیلی عدالت میں ہرجانہ دلا پانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ان کی پچیس سالہ بیٹی شطحہ نے اس بات پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے کہ وہ لوگ ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں۔ شطحہ اسرائیلی فوج کے حملے میں بچ گئی تھیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ ان (اسرائیلی فوج) کا پیچھا جاری رکھیں گے اور ان پر یہ زور دیتے رہیں گے کہ وہ واقعے کی ذمے داری قبول کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے المیے کبھی رونما نہ ہوں“۔