موصل،3اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عالمی شہرت یافتہ سفاک دہشت گرد تنظیم ’دولت اسلامی‘(داعش) کے ظلم وستم کی کہانیاں آئے روز ذرائع ابلاغ میں شائع ہوتی ہیں۔ایسی ہی المناک اور دل گداز داستانوں میں ایک حقیقی واقعہ عراق کے ایک ستم رسیدہ خاندان کا ہے جو داعش کے ظلم کا بغیر کسی وجہ کے شکار ہوا۔ تمام افراد داعش کی دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد ماں کا جواں سال بیٹا داعش کے ظلم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ موصل کی رہائشی ام علاء نے اپنی کتھا خود سنائی۔ اس نے بتایا کہ یہ پچھلے سال 14 رمضان کا دن تھا۔ ان کے مالی حالات تنگ تھے۔ گھر میں صرف ایک انگوٹھی تھی۔ انہوں نے اپنے شوہر کے مشورے سے انگوٹھی بازار میں لے جا کر فروخت کرنے اور اس کے عوض ملنے والی رقم سے گھر کی دال روٹی کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا۔ بدقسمتی سے وہ انگوٹھی فروخت کرنے کے لئے اپنے شوہر، پندرہ سالہ بیٹی سمیرہ اور بیٹے علاء کے ہمراہ گھر سے نکل پڑی۔ موصل اس وقت داعش کے زیرتسلط تھا اور داعشی غنڈہ جگہ جگہ پر اسلحہ تانے کھڑے تھے۔ ’داعش‘ کے ’الحسبہ‘ شعبے کے ایک روسی جنگجو نے انہیں راستے میں روکا اور کہا کہ اس کی بیٹی نے شرعی پردہ نہیں کررکھا۔ حالانکہ سمیرہ نے چہرے پر اوڑھنی بھی اوڑھ رکھی تھی۔ دونوں ماں باپ نے داعشی جنگجو کو بتایا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔ ابھی چھوٹی ہے۔ نیز وہ اپنے والدین کے ساتھ جا رہی ہے جو اس کے محرم ہیں۔
داعشی دہشت گرد نے ایک نہ سنی اور دوبارہ گلا پھاڑ پھاڑ کر برقعہ اوڑھنے کا کہنے لگا۔ دونوں میاں بیوی نے جنگجو کو بہتیرا سمجھایا۔ مگر معاملہ سلجھنے کے بجائے اس وقت اور الجھ گیا کہ جب سمیرہ نے داعشی کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی۔ داعشی دہشت گرد نے سمیرہ پر نقاب نہ کرنے کے بجائے ’حسبہ‘ اہلکار سے بدتمیزی کرنے اور اس پرحملہ کرنے کا الزام عاید کرنے کے الزام میں اس کے والد سمیت دونوں کو حراست میں لے لیا۔ام علاء کہتی ہیں کہ وہ چیختی چلاتی داعشی جج کے پاس گئیں۔ اس وقت اس کے شوہر کو ایک کمرے کمرے میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر بٹھایا گیا تھا جب کہ سمیرہ کو ایک دوسری جگہ رکھا گیا تھا۔ اس نے جج سے بار بار فریاد کہ اس کے شوہر اور بیٹی کو چھوڑ دیں کیونکہ ان کا کوئی قصور نہیں۔مگر داعشی جج بھی تو داعشی ہی تھا۔ اس نے مظلوم خاتون کی آہ وبکا پر کوئی توجہ نہ دی۔ حتیٰ کہ اسے بلیک میل کرنے لگا۔