نئی دہلی: 12/ مئی (ایس او نیوز /پریس ریلیز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قدیم رکن اور طویل عرصہ سے بورڈ کے سینئر نائب صدر حضرت مولانا کاکا سعید احمد عمری رحمہ اللہ کی وفات پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حضرت مولانا کاکا سعید احمد عمری صاحبؒ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مثالی شخصیت کے مالک تھے، علم وعمل کا حسین امتزاج تھے، انھوں نے تعلیم کے میدان میں بڑی محنت کی۔
ان کے زیر اہتمام جامعہ دارالسلام عمرآباد کو بڑی ترقی حاصل ہوئی، اس جامعہ کا بنیادی مقصد دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج اور مسلک ومشرب کی سطح سے اوپر اٹھ کر دین اور علم دین کی خدمت کرنا ہے، انھوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اسی راہ پر قائم رکھا اور اس سلسلے میں انتہا پسند نقطۂ نظر رکھنے والے حضرات کی کوئی پرواہ نہیں کی، ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو برادران وطن میں دعوت اسلام کا کام تھا، انھوں نے جامعہ دارالسلام کے بعض نو مسلم فضلاء کے ذریعہ تبلیغ اسلام کے کام کو ایک تحریک بنا دیا اور اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ تشہیر اور کریڈٹ حاصل کرنے سے گریز کیا، ملک بھر میں ان کی اس داعیانہ کوشش کا فیض پہنچا، وہ اتحاد ملت کے بہت مضبوط اورطاقت ور داعی تھے، وہ اپنی نجی مجلس اور عوامی محفل دونوں میں اتحاد ملت کے نقیب تھے، وہ اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سنیئر نائب صدر تھے اور بورڈ کی تمام تحریکوں میں پوری دلچسپی کے ساتھ شریک رہتے تھے، ان کی وفات یقیناً ملت اسلامیہ کے لئے بڑا حادثہ ہے، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور بلند درجات سے نوازے۔آمین
اسی طرح بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب نے حضرت مولانا عمری صاحبؒ کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ حضرت مولانا عمری صاحبؒ بڑی خوبیوں کے مالک تھے اللہ نے ان سے بڑا کام لیا وہ اتحاد ملت کے بڑے علمبردار تھے ،بورڈ کی نشستوں میں دلچسپی کے ساتھ حاضر ہوتے اور اپنی رائے پیش کرنے میں پیش پیش رہتے،طویل عرصہ سے بورڈ کےنائب صدر تھے ،خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے عادی تھے ،ملت کی اٹھان اور ترقی کیلئے ہرممکن بے لوث کوشش کرتے رہے ،ان کا خلا دیر تک محسوس کیا جائیگا۔
اللہ رب العزت انکی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے نیز اس ملت کو ان کا بدل عطافرمائے ۔آمین یارب العلمین