ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / جے ڈی یو کی پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں سابق وزیر رمئی رام سمیت 21لیڈران معطل،سابق ایم پی ارجن رائے بھی باہر

جے ڈی یو کی پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں سابق وزیر رمئی رام سمیت 21لیڈران معطل،سابق ایم پی ارجن رائے بھی باہر

Mon, 14 Aug 2017 22:55:15    S.O. News Service

پٹنہ:14/اگست(ایس او نیوز /آئی این ایس انڈیا) بہار میں حکمراں جے ڈی یو نے پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں سابق وزیر رمئی رام، سیتامڑھی سے سابق ایم پی ارجن رائے، ویشالی سے سابق ممبر اسمبلی راج کشور سنہا، سابق بہار قانون ساز کونسل ممبر وجے ورما سمیت اپنے 21 لیڈروں کو فوری طورپرپارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔جے ڈی یو کے ریاستی جنرل سکریٹری انیل کمار نے آج ایک پریس ریلیز جاری کرکے بتایا کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں جے ڈی یو کے ریاستی صدر بششٹھ نارائن سنگھ نے ان لیڈروں کو فوری طورسے پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطل کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہنے کے الزام میں جن دیگر جے ڈی یولیڈران کے خلاف مذکورہ کارروائی کی گئی ہے ان میں پارٹی ضلع صدر، سہرسہ دھنک لال مکھیا، سابق پارٹی ضلع صدر اور ریاستی کونسل رکن، مدھے پورا سیارام یادو، جے ڈی یو ورکرز سیل کے سابق ریاستی صدر وندیشور سنگھ، ریاستی کونسل رکن، مظفر پور اسرائیل منصوری، تکنیکی سیل کے ضلع صد متھلیش کشواہا، ریاستی کونسل رکن، گائے گھاٹ، مظفر پورکے نرنجن رائے، دربھنگہ کے دیوکانت رائے، پیشہ سیل، ضلعی صدر مدھوبنی ٹنکوکسیرا، منڈل صدرسون برسا جے کمار سنگھ، منڈل صدرکہرادھریندر یادو، پیشہ سیل ادے چندر ساہا، منڈل صدر بہاری وریندر آزاد، منڈل صدرسترکٹیا سریش یادو،سب منڈل صدرسوربازار وجیندر یا اور، کسان سیل، مدھے پورا رمن سنگھ، صدر مدھے پورا سٹی کونسل کمل داس اور ضلع کونسل نائب صدر، سیتامڑھی دویندر شاہ شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جے ڈی یو نے بہار میں بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کی مخالفت کر رہے اپنی پارٹی کے سابق قومی صدر اور راجیہ سبھا رکن کو گزشتہ 12 اگست کو اعلی ایوان میں پارٹی کے لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔گزشتہ 11 اگست کو جے ڈی یو نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کی تنقید کرنے والے اپنی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر علی انور کو کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طرف سے بلائی گئی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں شامل ہونے پر پارلیمانی پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔ہوٹل کے بدلے پلاٹ معاملے میں نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو کے عوام کی عدالت میں وضاحت نہیں دینے پر مہاگٹھ بندھن سے ناطہ توڑکر وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار نے گزشتہ 27 جولائی کو بی جے پی کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنا لی تھی جس پر شرد یادو اور علی انور نے احتجاج کیا تھا اور اسے 2015 میں مہاگٹھ بندھن (جے ڈی یو۔آر جے ڈی۔کانگریس) کو ملے مینڈیٹ اور عوام کے بھروسہ کوتوڑنے والا بتایا تھا۔


Share: