نئی دہلی، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو مبینہ ’’جانبداری اور اپوزیشن مخالف طرزِ عمل‘‘ کے الزام میں عہدے سے ہٹانے کیلئے پیش کی گئی قرارداد پر منگل کو پارلیمنٹ میں گرماگرم بحث کا آغاز ہوگیا۔ اپوزیشن کی جانب سے گورو گوگوئی نے بحث کی شروعات کرتے ہوئے اسپیکر کی مبینہ جانبداری کی مثالیں پیش کیں، جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اوم برلا کا دفاع کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے اقوال کا حوالہ دیا۔ اس پر پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رجیجو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بحث کے دوران حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موضوع پر کل 10 گھنٹے کی بحث مقرر کی گئی ہے، جس میں منگل کو تقریباً 7 گھنٹے گفتگو ہوئی، جبکہ بدھ کو بقیہ بحث کے بعد قرارداد پر ووٹنگ ہوگی۔ ووٹنگ سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیں گے۔
کارروائی کا آغاز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے اس نوٹس کو پڑھ کر کیا جس میں اوم برلا کو ہٹانے کی قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ بھی اٹھا کہ اسپیکر کے خلاف ریزولیوشن پر بحث کے دوران اجلاس کی صدارت کون کرے گا۔مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے’ نکتہ ٔ اعتراض ‘ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال اجلاس کی صدارت کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے دلیل دی کہ پال کو ایوان کی کارروائی چلانے کیلئے بنائے گئے پینل میں خود اسپیکر نے مقرر کیا تھا ۔ بہرحال اس اعتراض کو خارج کردیاگیا۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اور کرن رجیجو نے اسے ’’غیر متعلقہ‘‘ قراردیا اورکہا کہ جگدمبیکا پال بحث کے دوران ایوان کی صدارت کے اہل ہیں۔
صدر نشیں نے سب سے پہلے اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی نوٹس کی حمایت کرنے والے اراکین سے کھڑے ہونے کو کہا جس پر ۵۰؍ سے زیادہ اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ واضح رہے کہ اسپیکر کے خلاف ریزولیوشن پر بحث کیلئے کم از کم ایم پی کی منظوری ضروری ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے بحث کا آغازگورو گوگوئی نے کیا۔ انہوں نے بطور اسپیکر اوم برلا کے طرز عمل پر سخت تنقید کی اور جانبدارانہ رویے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئین کو بچانے اور پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے یہ قرارداد مجبوراً لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ’’ہمیں افسوس ہے کہ یہ قرارداد لانی پڑی لیکن ایوان کے وقار اور نظم و ضبط کے تحفظ کیلئے یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کو بار بار ایوان میں اہم مسائل اٹھانے سے روکا گیا۔ اس موقع پر گوگوئی نے بطور خاص صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حوالہ دیا۔
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جب اپوزیشن لیڈر صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران اظہارِ خیال کیلئے کھڑے ہوئے تو انہیں بار بار ٹوکا گیا اور تقریباً 20 مرتبہ مداخلت کی گئی۔ گوگوئی نے اس صورتحال کو ایوان کی غیر جانبداری کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے اسپیکر کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔