ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جی ایس ٹی ضابطہ تبدیلی، گجرات انتخابات کے پیش نظر کانگریس کی جانب سے تنقید،مودی ملازمت کے مواقع پیداکریں:راہل گاندھی

جی ایس ٹی ضابطہ تبدیلی، گجرات انتخابات کے پیش نظر کانگریس کی جانب سے تنقید،مودی ملازمت کے مواقع پیداکریں:راہل گاندھی

Sun, 08 Oct 2017 12:02:52    S.O. News Service

نئی دہلی :7؍اکتوبر(یواین آئی؍آئی این ایس)جی ایس ٹی سے متعلق کل اعلان کردہ رعایتوں کو’’اونٹ کے منہ میں زیرہ ‘‘قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم گجرات اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھ کراٹھایا گیا ہے۔لیکن اس میں زرعی اور ٹیکسٹائل سیکٹرز کو رعایت نہ دیکر مودی حکومت نے عام لوگوں کو ایک بار پھرمایوس کیاہے۔

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ خصوصی اخباری کانفرنس میں جی ایس ٹی کے تحت شعبوں کو دی گئی عبوری راحت کا خیر مقدم کیا ،لیکن سب سے زیادہ روزگاردینے والے زرعی شعبہ اور ٹیکسٹائل نیز عام آدمی کے استعمال کی چیزوں میں راحت نہ دینے پر حکومت پر نکتہ چینی کی ۔ سرجے والا نے کہا کہ یہ امید کی جارہی تھی کہ وزیر اعظم ،وزیر خزانہ اور بی جے پی صدر امیت شاہ کے گہرائی سے غوروخوض کرنے کے بعد جی ایس ٹی سے بڑھی مہنگائی سے پریشان عام لوگوں کو کچھ راحت دلائیں گے۔ لیکن یہ محض انتخابات کی تیاری نظر آیا۔ حکومت پر جی ایس ٹی سے متعلق ڈھانچہ جاتی معاملات کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل ٹھوس فیصلے کرنے کے بجائے ٹی ڈی ایس اور ٹی سی ایس ریورس چارج سسٹم اور ای وے بل جیسے اہم مسائل کو مارچ، اپریل2018ء تک ٹال دیا گیا ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ خامیوں سے پر جی ایس ٹی کی وجہ سے کپڑا صنعت کے بحران کا شکار ہونے سے ملک گیر احتجاج کے بعد حکومت نے ہاتھ سے بنے دھاگے پر جی ایس ٹی18؍فیصد سے کم کرکے12؍فیصد کیاہے ۔اس کے بعد تیار کپڑے پر پانچ فیصد مزید ٹیکس لگے گا۔اس فیصلے سے دھاگابنانے والی بڑی کمپنیاں منافع کمائیں گی ،جبکہ کرگھاوالوں کا نقصان ہوگا ۔درآمد شدہ ملبوسات پر محض5؍فیصد ڈیوٹی لگنے سے گھریلو کپڑا صنعت کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانگریس نے ’’کمپوزیشن یوجنا‘‘ کے لئے سالانہ کاروبار کی حد75؍لاکھ روپئے سے بڑھاکر ایک کروڑ روپئے کئے جانے کو بھی ناکافی بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کاروباریوں کو صحیح معنی میں راحت نہیں ملے گی۔جی ایس ٹی سے پہلے یہ حد ڈیڑھ کروڑ روپئے تھی اور افراط زر ایڈ جسٹمنٹ کے بعد یہ کم سے کم 3؍ کروڑ روپئے ہوتی تھی۔ انہوں نے پٹرول ،بجلی اور ریئل اسٹیٹ کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کی مانگ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ حکومت نے اس بارے میں کوئی کارروائی منصوبہ پیش نہیں کیا ۔پٹرول پر ٹیکس سے سالانہ دو لاکھ 73ہزار کروڑ روپئے کی حکومت کی کمائی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام آدمی مہنگائی سے بے حال ہے اور حکومت خزانہ بھرنے میں مصروف ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے جی ایس ٹی کے تحت گیس اور ڈیزل کو زیادہ سے زیادہ منافع کو روکنے کے لئے لانے کوکہاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگلے انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کو نئے ٹیکس ریفریجریشن کا فائدہ نہیں ملناچاہئے۔ انہوں نے ٹویٹ کیاکہ ایک ملک ، 7؍ ٹیکس، کئی اقسام میں بھرنے اور ٹیکس دہندہ کی سختی کو بہتر بنانے کا وقت ہے۔ متعددٹویٹس میں انہوں نے کہا’’مجھے امید ہے کہ مودی جی نے اقتصادی بحران اور جی ایس ٹی کو عوام کے مسائل کو ختم کرنے کے تماشا کے ساتھ خرابی دیکھی ہوگی۔‘‘ کانگریس کے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کاروباریوں کی مددکرنے کے لئے انہوں نے وزیر اعظم سے ملازمت کے مواقع پیداکرنے پر بھی توجہ دلائی۔کانگریس نے ’’بہت مختصر، کافی دیرسے‘‘جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کو مسترد کیا اور کہا کہ ٹیکس کی نئی شرح میں لوگوں کے خدشات پرقابوپانے کے لئے مزیدکوشش کرنے کی ضرورت ہے۔


Share: