رانچی،21؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آدھارکارڈنہیں تھااسلئے زندگی کا آدھاربھی گیا۔بچی کو سیاست کی سمجھ کہاں تھی، کہاں پتہ تھا کہ راشن کیلئے آنکھوں کی پتلیوں اورانگلیوں کی چھاپ حکومت کوچاہیے۔ چاہے تمہاری آنکھیں ہی کیوں نہ پتھراجائیں۔اس سے بھی انہیں پرہیزنہ ہوگاویسے تمہاری موت کوملیریا، ٹائیفائڈ یا نہ جانے کن وجوہات سے ہوئی۔ بتانے کوپوراعملہ لگ گیاہے۔یہ سسٹم کاایک بے تکامذاق ہی ہے کہ جس متاثرہ ماں کو سرکاری راشن دکاندار پہچان رہا تھا۔ انکا راشن کارڈ بھی ہے، وہ غریب بھی ہیں، گاؤں کے لوگ بھی اسے پہچان رہے ہیں لیکن صرف ایک مشین اسے نہیں پہچان پا رہی ہے۔ اس کے بعد ایک ماں راشن سے محروم یوجاتی ہے اور اسکی بیٹی بھوک سے مر جاتی ہے۔22 مئی 2017 کو جھارکھنڈ کی چیف سیکرٹری راجبالا ورما کے ذریعے حکومت کے عہدے داروں کیساتھ ایک ویڈیو کانفرنسنگ کی گئی۔جس میں ضلع کے فوڈ سپلائی کے عہدے داروں کوحکم دے دیا گیا کہ جن کے راشن کارڈ آدھارسے لنک نہیں ہیں ان کے نام راشن کارڈ کی لسٹ سے ہٹا دئیے جائیں۔حکم کے بعد جھارکھنڈ حکومت کے ذریعے 11.64لاکھ راشن کارڈ کو صرف اسلئے ختم کر دیا گیا کیونکہ وہ آدھار سے لنک نہیں تھے۔ 1000 دن کی کامیابی گناتے ہوئے خوراک فراہمی شعبہ نے یہ تو بتلا دیا کہ11.64لاکھ فرضی اور نااہل لوگوں کے راشن کارڈ رد کر دئیے گئے ہیں۔لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنے بدعنوان ڈیلروں کے لائسینس رد ہوئے کتنے بدعنوان افسروں کے خلاف کاروائی ہوئی۔ جب کہ آئے دن بدعنوان ڈیلروں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوتے رہتا ہے۔