ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنوبی کینرا کے ایم پی نلین کمار کٹیل کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔۔ رماناتھ رائے

جنوبی کینرا کے ایم پی نلین کمار کٹیل کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔۔ رماناتھ رائے

Wed, 04 Jan 2017 02:57:06    S.O. News Service

منگلورو 3/جنوری (ایس او نیوز) جونبی کینرا کے ضلع انچارج وزیر مسٹر بی رماناتھ رائے نے کہا ہے کہ رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ اکتوبر میں ہوئے ایک ہندتوا وادی کارکن کارتھک راج کے قتل میں ملوث افراد گرفتار نہ کیے جانے پر احتجاجی مظاہرے کے دوران مسٹر کٹیل نے آئندہ دس دنوں میں ملزم پکڑے نہ گئے توپھر جنوبی کینر امیں آگ لگادینے کی دھمکی دی تھی۔

 مسٹر رماناتھ رائے نے کہا کہ ایک ذمہ دار منتخب عوامی نمائندہ ہونے کی وجہ سے ایم پی کو بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے۔کارتھک کی موت کا ہمیں بھی دکھ ہے۔ کانگریس فرقہ واریت کی مذمت کرتی ہے۔ریاستی حکومت نے اس ضمن میں اقدامات بھی کیے ہیں۔فرقہ پرست عناصر کے خلاف غنڈہ ایکٹ بھی لاگو کیا گیا ہے۔میں ہوم منسٹر سے درخواست کرتاہوں کہ پولیس چونکہ ملزموں کو گرفتار کرنے میں ناکا م ہوگئی ہے اس لئے کارتھک قتل کیس کو اب سی آئی ڈی کے حوالے کردیا جائے۔

 اس موقع پر ضلع پنچایت رکن مامتا گٹّی نے کہا کہ وزیر غذا یو ٹی قادر اور دیگر کانگریسی لیڈران نے تین دن پہلے ہی کارتھک کے گھر کے جاکر ملاقات کی تھی اور اہل خانہ سے سی آئی ڈی جانچ کے لئے اجازت طلب کی تھی۔ اسی پس منظر میں مسٹر نلین کمار نے کارتھک راج کے اہل خانہ کو احتجاجی مظاہرے میں شامل کرکے اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

 یہ غیر ذمہ دارانہ بیان ہے:    وزیر غذامسٹر یو ٹی قادر نے رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل کے اشعال انگیز بیان کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمان کو اتحاد، ہم آہنگی اور ضلع کی ترقی کے حق میں بولنا چاہیے۔اس طرح کا نفرت انگیز بیان ان کو زیب نہیں دیتا ہے۔اب ضلع کے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ضلع کو آگ لگانے والا ایم پی چاہیے یا پھر آگ بجھانے والا چاہیے۔

مسٹر قادر نے کہا کہ کارتھک راج کے قتل پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔منتخب عوامی نمائندوں کو دیکھنا چاہیے کہ پولیس اپنا کام کرتی ہے یا نہیں، مگر اس سے سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔میں نے کارتھک کے اہل خانہ سے سی آئی ڈی تحقیقات کے بارے میں بات کی ہے۔ میں اس سلسلے میں ہوم منسٹر سے بھی اپیل کروں گا۔

 میں نے بھڑکانے والا بیان نہیں دیا:    اسی دوران متنازعہ بیان دینے والے ایم پی نلین کمار کٹیل نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران میں نے کوئی بھڑکانے والا بیان نہیں دیا ہے۔ میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا نہیں چاہتا۔ اگر میرے الفاظ سے کسی کو ٹھیس پہنچی ہے تو پھرمیں میڈیا کے ذریعے اس کے لئے معافی چاہتا ہوں۔

نلین نے مزید کہا کہ ایک معصوم نوجوان کارتھک کے قتل کو دو مہینے گزرجانے کے بعد بھی پولیس کے ذریعے ملزم پکڑے نہ جانے پر ضلع کے عوام بے چین ہوگئے ہیں۔اس سے بی جے پی کارکنان کے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔اس لئے ہم نے احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا تھا۔ میں جان بوجھ کر اشتعال دلانے والی کوئی بات نہیں کہی تھی۔اپنے حلقے کا ایم پی ہونے کی حیثیت سے میں اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہوں۔علاقہ میں امن بنائے رکھنا میری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔بالکل اسی طرح ریاستی حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنائے رکھے۔


Share: