قاہرہ،19اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مصر کے جزیرہ نما سیناء میں ایک عیسائی عبادت گاہ کے قریب منگل کے روز فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مصری پولیس اور گرجا گھر کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم گرجا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ مصری وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ مسلح شدت پسندوں نے جزیرہ سینا میں پہاڑی علاقے میں دیر سینٹ کیتھرین کے قریب پولیس کی ایک پارٹی پر حملہ کردیا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں دہشت گرد بندوق چھوڑ کر فرار ہوگئے، فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ مقتول پولیس اہلکار کی شناخت جمال محمد سعید امین کے نام سے کی گئی ہے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ادھر’دیر سینٹ کیتھرین‘ چرچ کے قریب حملے کے بعد چرچ کے پادری پوپ گری گوریس نے بتایا کہ فائرنگ سے چرچ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا اور اس میں موجود تمام افراد اور چرچ کے منتظمین مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل مصر کے شہروں اسکندریہ اور طنطا میں عیسائی عبادت گاہوں پر ہونے والے خود کش حملوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔