انقرہ،10؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)انقرہ میں وزارت خارجہ نے جرمنی میں مقیم اور جرمنی کا سفر کرنے والے ترک شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اسی مہینے ہونے والے جرمن انتخابات کے تناظر میں ترکی کی یہ تنبیہ باہمی تناؤ میں اضافے کا سبب بنے گی۔ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول سے ہفتہ نو ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق انقرہ میں ترک وزارت خارجہ نے ان ترک شہریوں کو، جو یا تو پہلے سے جرمنی میں رہائش پذیر ہیں یا پھر یورپی یونین کے رکن اس ملک کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، تنبیہ کی ہے کہ وہ چوبیس ستمبر کو ہونے والے جرمن پارلیمانی انتخابات کی ’کھچاؤ کا شکار‘ سیاسی مہم کے باعث محتاط رہیں۔ترک وزرات خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عائد کرتے ہوئے ہفتے کے روز کہا گیا، ’’جرمنی میں سیاسی رہنما اپنے ہاں عنقریب ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے مہم ترکی مخالف سوچ اور ہمارے ملک کی یورپی یونین میں رکنیت کو روکنے کی بنیاد پر چلا رہے ہیں۔‘‘ساتھ ہی اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے، ’’یہ ملک (جرمنی) گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی حتیٰ کہ نسل پرستانہ نوعیت کی بیان بازی کے زیر اثر ہے۔‘‘ بیان کے مطابق ان حالات میں جرمنی میں ترک باشندوں کو ’دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتیاط‘ سے کام لینا چاہیے۔نیوزا یجنسی ڈی پی اے نے لکھاہے کہ اسی ترک حکومتی بیان میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جرمنی میں ’مردم بیزاری اور نسل پرستی‘ کے خلاف عدالتوں کے ذریعے قانونی عمل کا فقدان ہے۔ اس حوالے سے انقرہ میں ملکی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ جرمنی میں ترک شہریوں کی آبادی والے علاقوں میں کچھ عمارات میں آتشزدگی کے جو حالیہ واقعات دیکھنے میں آئے، ان میں سے چندایک مبینہ طور پر مشتبہ نسل پرستوں کی کارروائیوں کا نتیجہ تھے۔ترک وزارت خارجہ نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ جرمنی مبینہ طورپراپنے ہاں دہشت گرد گروپوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اس سلسلے میں اس بیان میں کردوں کی ممنوعہ تنظیم کردستان ورکرزپارٹی یا پی کے کے اور امریکا میں مقیم ترک مسلم مبلغ فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔