پونے، 15؍فروری (ایس او نیوز) پونے جرمن بیکری کیس میں ٹرائل کورٹ سے دی گئی پھانسی کے سزاسے بچنے کے بعد مرزا حمایت بیگ کومیجسٹریٹ عدالت سے ایک اور راحت ملی ہے، جس کے تحت مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی طرف سے اس پر دائر "جہادی لٹریچر"مقدمے سے بھی اس کو بری کردیا گیا ہے۔اسی کے ساتھ انڈین مجاہدین کے مبینہ رکن اور اس معاملے میں ایک اور ملزم بھٹکل کے جناب مولانا شبیر گنگاولی کو بھی بری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے مولانا شبیر گنگاولی اور حمایت بیگ کے خلاف یہ مقدمہ ممنوعہ تنظیم سیمی کارکن ہونے، اپنے پاس جہادی لٹریچر رکھنے، اسے نوجوانوں میں تقسیم کرنے جیسے الزمات لگاتے ہوئے Unlawful Activities Prevention Act (UAPA)کی مختلف دفعات کے تحت دائر کیا تھا۔اس مقدمے سے ان دونوں ملزمین کی برأت کا فیصلہ ۲۲ دسمبر ۲۰۱۶ کوشیواجی نگر کورٹ کے جوڈیشل میجسٹریٹ (فرسٹ کلاس) وی بی گولوے پاٹل نے سنایا ۔
مولانا شبیر گنگاولی کو سب سے پہلے مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی پونے یونٹ نے دسمبر 2008میں جعلی کرنسی (سو روپے کے ۲۵۰ نوٹ) رکھنے کے الزام میں شیواجی نگر کی جنا واڈی مسجد سے گرفتار کیا تھا۔جبکہ ستمبر2010میں حمایت بیگ کو جرمن بیکری بم بلاسٹ میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ان دونوں ملزمین کے خلاف مذکورہ دومختلف معاملات کی تحقیق جب چل رہی تھی، تو جون 2010میں مولانا شبیر اور جنوری 2011میں حمایت بیگ کو UAPAکے تحت جہادی لٹریچر پھیلانے کے الزام میں اے ٹی ایس نے گرفتار کرلیا ۔اس سے پہلے مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے سال 2008میں ہی اسی الزام میں ممنوعہ سیمی کے پانچ مبینہ اراکین کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔ اور جہاد کے موضوع پر تقریباً40کتابیں ان کے پاس سے ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس وقت مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مولانا شبیر گنگاولی، حمایت بیگ اور ایک او رمولانانے (جن کا ابھی تک کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں ہوسکا ہے!) طالب علمی کے دوران پونے کے سولاپور روڈ کی ایک مسجد میں مسلم نوجوانوں کے لئے "درس"کی نشستو ں کے انعقاد اور "جہادی لٹریچر"کے پھیلانے کا اہتمام کیا تھا۔ اور نوجوانوں کو "جہادی نظریات"کا قائل کرنے کی مہم چلائی تھی۔
لیکن 2دسمبر2016کو انسپکٹر وجئے پاٹل نے عدالت میں کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 169کے تحت درخواست داخل کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں پر "جہادی لٹریچر"کا کیس ثابت کرنے کے لئے استغاثہ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت یا معقول سبب موجود نہیں ہے اس لئے انہیں اس مقدمے سے بری کیا جائے۔
اسی دوران سال 2011میں مولانا شبیر گنگاولی کو جعلی کرنسی نوٹ کے مقدمے میں 5سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کے بعد انہیں چناسوامی اسٹیڈیم بلاسٹ کیس کا ملزم بناکر گرفتار کیا گیا۔ اور فی الحال وہ بنگلورو جیل میں بند ہیں۔
جبکہ دوسری طرف مارچ 2016میں حمایت بیگ کو ممبئی ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے ملنے والی موت کی سزا ختم کرتے ہوئے UAPAکے تحت اس پر درج کئی دفعات سے اس کو بری کردیا تھا۔ مگر دھماکو اشیاء قانونExplosive Substance Actکے تحت اسے مجرم گردانتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ مگر گزشتہ مہینے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف جرمن بیکری معاملے میں حمایت بیگ کے لئے موت کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے مہاراشٹرا حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔بیگ فی الحال ناسک جیل میں قید ہے اور اس نے اپنی جان کو خطرہ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے پونے کے انجم انعامدار نامی سوشیل ایکٹویسٹ کو تحریر بھیجی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ناگپور اور پونے جیل میں بیگ پر حملہ ہوچکا ہے۔انجم کے مطابق حمایت بیگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے جیل کے مخصوص "انڈہ سیل"میں رکھنے کے بجائے عام بیریکس میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔