یکساں سول کوڈزیرِبحث نہیں ،عدالت قانونی پہلودیکھے گی،الگ الگ معاملہ پرسماعت نہیں ہوگی:جسٹس کھیہر
گیارہ مئی سے سماعت شروع ،مسلم پرسنل لاء بورڈنے ایک اورحلف نامہ داخل کرکے مرکزکی دلیلوں کی مخالفت کی
نئی دہلی، 14؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )تین طلاق کے معاملے پر سپریم کورٹ جلد سماعت مکمل کرے گا۔چیف جسٹس کھیہرنے کہاکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں انسانی حقوق کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے، یہ دوسرے معاملات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، ہم اس معاملے میں یکساں سول کوڈ پربحث نہیں کر رہے ہیں ، عدالت معاملہ میں قانونی پہلوپرفیصلہ دے گی۔ 16؍فروری کو عدالت میں معاملے طے ہوں گے اور11؍مئی سے معاملے کی سماعت شروع ہوگی۔تین طلاق کے مسئلہ پر دائر بہت درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ الگ الگ معاملہ کونہیں سنے گا۔کورٹ قانون کے وسیع معاملے پرغور کرے گا۔کورٹ نے کہا کہ تمام فریقوں کے وکیل تیار ہو کر آئیں اور ایک ہفتے میں سماعت مکمل کریں گے۔دراصل، تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے والی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ہے۔پچھلی سماعت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں ایک اور حلف نامہ داخل کرکے مرکز کی دلیلوں کی مخالفت کی تھی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے حلف نامے میں کہا تھا کہ تین طلاق کو خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بتانے والا مرکزی حکومت کا موقف بیکار کی دلیل ہے۔پرسنل لاء کو بنیادی حق کے کسوٹی پر چیلنج نہیں دیا جا سکتا،ٹرپل طلاق، نکاح یا حلالہ جیسے مسائل پر عدالت اگر سماعت کرتی ہے تو یہ عدالتی قانون سازی کی طرح ہو گا۔مرکزی حکومت نے اس معاملے میں جو موقف اختیار کیا ہے کہ ان معاملات پر دوبارہ غورکیا جانا چاہیے ،یہ بیکار کا موقف ہے۔پرسنل لاء بورڈ کا موقف ہے کہ معاملے میں داخل عرضی مسترد کی جانی چاہیے ، کیونکہ درخواست جو سوال اٹھائے گئے ہیں وہ عدالتی جائزے کے دائرے میں نہیں آتے، حلف نامے میں پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ پرسنل لاء کو چیلنج نہیں دیا جا سکتا ہے ۔سماجی اصلاحات کے نام پر مسلم پرسنل لاء کو دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا، کیونکہ یہ پریکٹس آئین کے آرٹیکل 25، 26اور 29کے تحت محفوظ ہے، یکساں سول کوڈ پر لاء کمیشن کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ یکساں سول کوڈ آئین کے ڈائریکٹو پرنسپل کا حصہ ہے، دراصل، تین طلاق، نکاح ،حلالہ اور تعددازدواج کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔اس معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ایفی ڈیوٹ داخل کرکے درخواست کی مخالفت کی جا چکی ہے ،اس کے بعد اس معاملے میں مرکزی حکومت کی جانب سے حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق کی تجویز کو آئین کے تحت دئیے گئے مساوات کے حقوق اور امتیازی سلوک کے خلاف حق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔مرکز ی حکومت نے کہا کہ صنفی مساوات اور خواتین کے احترام کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں خواتین کو جو آئین میں حقوق دئیے گئے ہیں ، ان سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔مسلم ممالک سمیت پاکستان کے قانون کا بھی مرکز نے حوالہ دیا جس میں طلاق کے قانون کے تعلق سے اصلاحات کا دعویٰ کیاگیاہے اورطلاق سے لے کر کثرت ازدواج میں اصلاحات کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔تین طلاق، نکاح،حلالہ،تعددِازدواج اور شادی بیاہ کی آئینی وقانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواست پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت سے جواب داخل کرنے کوکہا گیا تھا۔