اناڈی ایم کے کے نئے لیڈر پلانی سوامی کی گورنر سے ملاقات۔حکومت کی تشکیل کا دعویٰ۔پنیر سیلوم کے خیمے میں خوشی کی لہر
چنئی،14 فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) تملناڈو کی وزیر اعلیٰ جیاللیتا کی وفات کے بعد اناڈی ایم کے کی جنرل سکریٹری ششی کلا کاوزیر اعلیٰ بننے کا خواب اس وقت چکناچور ہوگیا جب سپریم کورٹ نے آمدنی سے زائد آثاثہ رکھنے اور بدعنوانی کے مقدمہ میں انہیں قصوروار قرار دے کر چار سال قید کی سزا سنائی اوراگلے 10 سالوں تک کے لئے انتخابات کیلئے نااہل قرار دے دیا ۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی ششی کلا کا سیاسی کیرئیر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا اور تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کی دوڑ سے بھی وہ باہر ہوگئیں۔ فیصلے کے مطابق وہ کوئی عوامی عہدہ قبول کرنے کے لئے بھی نااہل ہوگئی ہیں سپریم کورٹ نے ششی کلا اور باقی2مجرموں کو فوری طور پر نچلی عدالت میں خودسپردگی کرنے کو کہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہ آج بدھ کو خود کو قانون کو حوالے کردیں گی۔
21سال پرانے آمدنی سے زائد جائیداد کے اس معاملے میں تملناڈو کی آنجہانی وزیر اعلیٰ جیاللیتا اہم ملزم تھیں، ان پر آمدنی سے66کروڑ زیادہ اثاثہ جمع کرنے کا الزام تھا۔ ششی کلا، سدھاکرن اور الوراسی پر سازش میں شامل ہونے یعنی آئی پی سی کی دفعہ120بی کے تحت الزامات تھے۔جسٹس پی سی گھوش اور امیتاؤ رائے کی بنچ نے سیدھے سیدھے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کا جو فیصلہ تھا اسے ہم مسترد کر رہے ہیں اور نچلی عدالت کے فیصلے کو ہم برقرار رکھ رہے ہیں ۔آج سپریم کورٹ نے کہا کہ معاملے میں ملزمان کے خلاف پیش کئے گئے ثبوت کافی ہیں،یہ واضح ہے کہ فرضی کمپنیوں کے ذریعے ہیراپھیری کی گئی ۔بدعنوانی کے اس معاملے میں سبھی شریک تھے، چونکہ جیاللیتا اب اس دنیا میں نہیں ہیں،اس لئے ان کا معاملہ ختم کیا جاتا ہے،باقی تینوں قصورواروں کے لئے نچلی عدالت کا فیصلہ مکمل طور پر لاگو ہوگا ۔سپریم کورٹ نے جیاللیتا کے5دسمبر کو انتقال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے خلاف دائر تمام اپیلوں پر کارروائی ختم کر دی ہے۔غورطلب ہے کہ21سال پرانے اس معاملے میں بنگلور کی خصوصی عدالت کا فیصلہ27ستمبر2014کو آیا تھا،عدالت نے جیاللیتا کو 4سال کی سزا سنانے کے ساتھ ہی ان پر100کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا،ششی کلا، الواراسی اور سدھاکرن کوبھی4سال کی قید اور10-10کروڑ جرمانے کی سزا ملی تھی۔11مئی2015کو کرناٹک ہائی کورٹ نے چاروں کو بری کر دیا تھا،اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے، جیاللیتا کے خلاف دائر اپیل کو عدالت نے تکنیکی طور پر ختم کر دیا ہے۔اس لئے ان پر لگا100کروڑ کا جرمانہ بھی ختم مانا جائے گا۔یہ معاملہ تقریباً21سال پرانا 1996کا ہے جب جیاللیتاکے خلاف آمدنی سے 66کروڑ روپے کی زیادہ جائیداد کامعاملہ درج ہوا تھا،اس معاملہ میں جیاللیتاکے ساتھ ششی کلا اور ان کے دو رشتہ داروں کو بھی ملزم بنایا گیا تھا،ششی کلا کے خلاف یہ معاملہ نچلی عدالتوں سے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ تک پہنچا ہے۔ششی کلا کے معاملے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی ان کا سیاسی کیریئر تقریباً ختم ہوگیا ہے کیونکہ سزا پوری کرنے کے 10 سال بعد تک وہ الیکشن نہیں لڑپائیں گی۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ششی نے تملناڈو کیلئے چار بار منتخب وزیر اعلیٰ آنجہانی جیاللیتا کے پہلے دورحکومت میں ان کے ساتھ مل کر 60 کروڑ روپئے کے اثاثے بنائے جوان کے ظاہرکردہ ذرائع آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ غور طلب ہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے نے پنیر سیلوم کو پارٹی سے نکال دیا ہے ۔یہ فیصلہ ششی کلا کے گھر ہوئی اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں لیا گیا ۔اس میٹنگ میں ای پلانی سامی کو پارٹی اراکین کا لیڈر بنایا گیا ہے ۔ دریں اثناء اناڈی ایم کے پارٹی اراکین کے نو منتخب لیڈر پلانی سامی نے گورنر سی ایچ ودیاساگر سے مل کر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا ہے ۔ پلانی نے 126 اراکین اسمبلی کی حمایت ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔
پنیرسیلوم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا: تملناڈو کے وزیر اعلیٰ او پنیرسیلوم اور اپوزیشن ڈی ایم کے کے قائم مقام صدر ایم کے اسٹالن نے آمدنی سے زائداملاک کے معاملے میں اے آئی اے ڈی ایم کے کی سکریٹری جنرل وی کے ششی کلا اور دو دیگر کے خلاف نچلی عدالت کے فیصلے کو بحال کئے جانے سے متعلق سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔پنیرسیلوم خیمے نے ٹوئٹ کیاکہ ’’ششی کلا مجرم، تملناڈو محفوظ ہے۔‘‘ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد ہی کافی تعداد میں وزیر اعلیٰ کے حامی اور ممبران اسمبلی سمیت ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔بعد میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سیلوم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ اماں ( جیاللیتا) کی روح اب بھی زندہ ہے اور ہماری رہنمائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اماں کا صاف وشفاف انتظامیہ ممبران اسمبلی کی مدد اور دیگر جماعتوں کی حمایت کے بغیر بھی مسلسل قائم رہے گا۔انہوں نے کہاکہ اماں کی سنہری حکومت کو امن اور قانون کے تحت بغیر کسی رکاوٹ کے برقرار رکھنا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔کچھ ایسا ہی نظارہ جیا للیتاکی بھتیجی دیپا کی رہائش گاہ پرنظر آیا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں ان کے حامی وہاں پہنچ گئے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔مسٹراسٹالن نے اپنی رائے میں کہاکہ21سال بعد آخر کار انصاف ملا۔اس تاریخی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کو اپنی عوامی زندگی میں سلاست قائم رکھنی چاہیے۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ عدالت کے فیصلے کے تناظر میں اب گورنر کو آئین کے تحت حاصل حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ریاست میں ایک مستحکم حکومت کی تشکیل کے عمل کو لے کر قدم اٹھاناچاہیے ۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے ریاستی سکریٹری جی راماکرشن نے کہا کہ ان کی پارٹی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ انہوں نے یہاں ایک بیان میں کہاکہ یہ فیصلہ بدعنوانی سے وابستہ لوگوں کیلئے انتباہ ہے ۔ اس فیصلے سے بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کوبھی مضبوطی ملے گی۔انہوں نے گورنر سے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور ریاست میں ایک مستحکم حکومت کا قیام یقینی بنانے کی اپیل کی ہے ۔