تہران7مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو کے "ایجنڈا 2030" کو مسترد کرتا ہے جس کا مقصد عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر تمام بچوں کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع کو یقینی بنانا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِرنا" کے مطابق اساتذہ اور تعلیمی امور سے متعلق شخصیات کے ایک مجمع سے خطاب کے دوران خامنہ ای نے ایرانی حکومت کو مذکورہ ایجنڈے پر دستخط کرنے کے سبب تنقید کا نشانہ بنایا۔ خامنہ ای کے مطابق ایجنڈا 2030 اور اس سے ملی جلتی چیزیں ایسی نہیں کہ ایران ان کے سامنے جْھک جائے۔ایرانی مرشد نے حسن روحانی کی حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ " اس ایجنڈے پر دستخظ بنیادی طور پر ایک غلطی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ " خفیہ طور پر اس ایجنڈے پر دستخط اور عمل درامد کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔اس سے قبل ایرانی سپریم کونسل برائے ثقافتی انقلاب کے رکن حسن رحیم پور ازغدی نے یونیسکو کے ایجنڈا 2030 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دستاویز "بچوں، تعلیم و تربیت، عورت اور خاندان سے متعلق امور کے حوالے سے لبرل نظریات کی حامل ہے اور سا میں بنیادی نوعیت کے تضاد موجودہیں۔ادھر یونی ورسٹی اساتذہ سے متعلق "پاسیج" تنظیم کے سربراہ سہراب الصلاحی نے سپریم کونسل برائے ثقافتی انقلاب اور پارلیمنٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں دعوی کیا کہ یونیسکو کے تعلیمی ایجنڈے 2030 کے منصوبے میں "امریکی جاسوس" بطور تربیت کار کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ملک میں اس پروگرام کے نفاذ کے لیے کام کرنے کے واسطے ایرانی ذمے داران کو فریب دے دیا۔