بنگلورو،26؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) مختلف ترقی پسند تنظیموں نے ریاستی حکومت کی طرف سے 10؍ نومبر کوٹیپوسلطان جینتی کے اہتمام کے فیصلے کی پرزور حمایت کرتے ہوئے ان تقریبات کی مخالفت کرنے والے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے استعفیٰ کی مانگ کی اور کہاکہ ٹیپو جینتی کی مخالفت کرکے وزیر موصوف نے جمہوریت کو مجروح کیا ہے اسی لئے انہیں یا تو معافی مانگنی ہوگی یا پھر استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اننت کمار ہیگڈے ، پرتاپ سمہا اور شوبھا کارندلاجے جیسے اراکین پارلیمان نے ٹیپو سلطان جینتی کی مخالفت کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ بھوجن امبیڈکر سنگھا کے صدر این سی جیوتی نے کہاکہ ٹیپو سلطان شہید کی شخصیت پر پروفیسر بی شیخ علی کی لکھی گئی کتاب میں اس وقت کے وزیراعلیٰ جگدیش شٹر نے پیش لفظ لکھا ہے۔ اگر ٹیپو سلطان ملک کے غدار تھے تو اس وقت یہ پیش لفظ کیوں لکھا گیا۔ بحیثیت صدر کے جے پی یڈیورپا نے ٹیپوسلطان کے مزار پر حاضری دی اور وہاں ٹیپو سلطان کا پیٹھا پہن کر یہ قسم کھائی کہ دوبارہ بی جے پی میں نہیں آئیں گے، لیکن چند ہی ماہ میں اقتدار کی ہوس میں بی جے پی میں لوٹ آئے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیپو سلطان ایک محب وطن اور محب کنڑا رہے ہیں ، ملک کی آزادی کیلئے انہوں نے انگریزوں سے جنگ کی لیکن آج بی جے پی کی نظروں میں وہ غدار ہیں۔ ہوسکتے ہیں کیونکہ جہد آزادی میں بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے انگریزوں سے وفاداری کی تھی، اسی لئے انگریزوں کے مخالفت بی جے پی کی نظروں میں غدار ہی ہوں گے۔ مسٹر جیوتی نے کہاکہ بار بار فرقہ پرست ٹیپو سلطان کو ایک ایسا حکمران بناکر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو خالص مسلمان تھے اور ہندو مذہب کو نقصان پہنچانے کیلئے کام کیا ہے جو کہ غلط ہے۔ اس موقع پر اسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔