بینگلورو، 6 / اپریل (ایس او نیوز) کنڑا میڈیااور دوسرے ویب سائٹس سمیت کئی ٹی وی نیوز چینلوں پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق بینگلورو کے رامشورم کیفے میں ہوئے بم دھماکے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے شیموگہ کے تیرتہلّی سے ایک بی جے پی کارکن کو تفتیش کے لئے حراست میں لیا ہے جس کی شناخت سائی پرساد کے طور پر کی گئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ این آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے شیموگہ میں دو نوجوانوں کی موبائل دکانوں اور ان کے گھروں پر چھاپے مارے تھے جس کے بعد ان مشتبہ نوجوانوں سے پوچھ تاچھ کی روشنی میں سائی پرساد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر رامیشورم کیفے بلاسٹ کے کلیدی ملزم مصور حسین شاہ زیب نے جو موبائل فون استعمال کیا تھا سائی پرساد کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا ۔
دوسری طرف تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت سے دہشت گردی جیسے حساس معاملے کی تفتیش میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اس کے علاوہ مشتبہ ملزموں کی شناخت ظاہر ہو جانے کی وجہ سے ان کے تحفظ کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
این آئی اے کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی طرف سے مفرور اور گرفتار شدہ ملزمین کے ساتھ حال یا ماضی میں کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والے تمام افراد بشمول ان کے کالج کے ساتھیوں تک سے تفتیش کی جا رہی ہے تا کہ معلومات اور شواہد اکٹھا کیے جا سکیں ۔
این آئی اے کے مطابق گرفتار شدہ مزمل شریف نے بم بلاسٹ کی سازش تیار کرنے والا اہم ملزم ہے جس نے مصور حسین اور طحٰہ متین کو دھماکہ کرنے کے لئے ضروری تعاون فراہم کیا تھا ۔
خیال رہے کہ این آئی اے نے مصور حسین شاہ زیب اور طحٰہ متین دونوں کو مفرور ملزم قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لئے سراغ فراہم کرنے پر انعام کا اعلان کیا ہے اور عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے ۔