ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح:سشما سوراج

بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح:سشما سوراج

Wed, 15 Mar 2017 20:08:09    S.O. News Service

نئی دہلی،15/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں مقیم ہندوستانی نژاد لوگوں پرہوئے حملوں کے حالیہ واقعات کے تناظر میں خاموشی اختیار کرنے کے الزامات کو پوری طرح خارج کرتے ہوئے بدھ کو مرکزی حکومت نے کہا کہ بیرون ملک آبادہندوستانیوں کی سلامتی اور تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے بدھ کو لوک سبھا میں اس معاملے پر بیان دیا۔گذشتہ 9 /مارچ کو وقفہ صفر میں ایوان کے کئی ارکان نے اس موضوع کو اٹھاتے ہوئے حکومت سے بیان کا مطالبہ کیا تھا۔سشما نے گذشتہ 22/فروری کو امریکہ کے کینساس میں 32/سالہ ہندوستانی انجینئر سری نواس کچی بھوتلا کی امریکی شہری کی طرف سے گولی مار کر ہلاکت، 2 /مارچ کو ہندوستانی نژاد ہرنش پٹیل پر حملے اور 4 /مارچ کو ہندوستانی نژاد امریکی شہری دیپ رائے پر حملے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میں اس ایوان اوراس کے ارکان کو یقین دلانا چاہوں گی کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی نژاد شہریوں کا  تحفظ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حملے میں متاثرین کے اہل خانہ نے بھی حکومت پر کوئی الزام نہیں لگایاہے، جبکہ کانگریس نے حکومت پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کبھی خاموشی نہیں اختیارکی اور نہ کبھی خاموشی اختیارکرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکی حکومت کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں، کسی بھی ہنگامی مسئلے کے حل کے لیے ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے مقامی ہندوستانی کمیونٹیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کی زندگی کو متاثر کرنے والی کسی بھی سرگرمی کے تئیں محتاط رہیں گے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ مذکورہ تینوں واقعات میں حکومت نے اپنے سفارت خانوں اور قونصل جنرل کے ذریعے متاثر لوگوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر وقت مدد بہم پہنچانے کے لیے ان سے فوری طور پر رابطہ کیا۔
ان واقعات کے سلسلے میں حکومت پر خاموشی اختیار کرنے کے کانگریس لیڈر ملکا ارجن کھڑگے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سشما نے کہاکہ یہ بات پوری طرح غلط ہے،اگر کوئی ہندوستانی مشکلات کا شکار ہے اور حکومت خاموشی سادھے رہے، یہ ممکن ہی نہیں ہے، یہ ہمارا طریقہ کار نہیں ہے، یہ الزام بالکل غلط ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلے بھی اس طرح کے معاملات میں ہم نے 24/گھنٹے کے اندر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس دن سری نواس کے قتل کا واقعہ پیش آیاتھا، وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت انتخابی مہم میں مصروف تھے، لیکن انہوں نے ہر روز اس معاملے میں وزارت سے اس سلسلے میں کارروائی کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے۔سشما نے کہاکہ میں گھر میں صحت کے فوائد حاصل کر رہی تھی، لیکن ذاتی طور پر پورے معاملے پر نظر رکھ رہی تھی۔انہوں نے کہاکہ میں نے ذاتی طور پر حیدرآباد میں شری نیواس کے والد اور بھائی سے بات کی، کینساس میں ان کی بیوی سونینا سے بھی رابطہ کیا، واقعہ والے دن ہی قونصلیٹ جنرل کے دو افسران ان کے گھر پہنچے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ان میں سے ایک افسر کو بھیجے گئے میل میں شری نواس کے خاندان نے بحران کے وقت مدد کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔شری نیواس کے خاندان کے پانچ ارکان نے صرف شکریہ اداکرنے کے لیے مجھ سے ملنے کا وقت مانگا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے دیپ رائے کے والد سے بھی بات کی اور انہوں نے اس کے لیے شکریہ کا اظہار کیا اور بتایا کہ دیپ مکمل طور پر محفوظ ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حملے میں متاثرین کے اہل خانہ نے بھی حکومت پر کوئی الزام نہیں لگایاہے، جبکہ کانگریس نے حکومت پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگایاہے، حکومت نے کبھی خاموشی نہیں اختیار کی  اور نہ کبھی اختیارکرے گی۔
 


Share: