بنگلورو،15؍فروری(ایس او نیوز) مرکزی وزیر اننت کمار اور ریاستی بی جے پی صدر ایشورپا کے درمیان بات چیت کی جو سی ڈی حال ہی میں کانگریس قائدین نے جاری کی ہے اس کے مکمل حصہ کو منظر عام پر لانے کا سابق وزیر آر اشوک نے مطالبہ کیا اور کہاکہ اس سی ڈی میں اننت کمار نے یہ نہیں کہاکہ انہوں نے بھی اعلیٰ کمان کو پیسے دئے ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سی ڈی کے ذریعہ کانگریس ریاستی بی جے پی کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کی طرف سے اے سی بی اور لوک آیوکتہ کو شکایت کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے اشوک نے کہاکہ اے سی بی یا لوک آیوکتہ کو ہی نہیں سی بی آئی یا کسی بین الاقوامی تحقیقاتی تنظیم سے شکایت کی جائے اور مکمل سی ڈی جاری کی جائے تو اس کی حقیقت سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ اننت کمار اور یڈیورپاکے درمیان جو بات چیت ہوئی اس میٹنگ میں وہ خود بھی موجود تھے۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ کمان کو رقم ادا کرنے کے سلسلے میں کچھ بھی بات چیت نہیں کی۔ اس سی ڈی کو انہوں نے غیر حقیقت پسندانہ اور تحریف شدہ قرار دیا۔ اشوک نے دعویٰ کیا کہ بہت جلد بی جے پی میں متعدد کانگریسیوں کی شمولیت متوقع ہے۔ ساحلی کرناٹک اور ملناڈ کے سینئر قائدین بی جے پی میں آرہے ہیں، انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ایس ایم کرشنا اور امبریش کی بی جے پی میں شمولیت کے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ دونوں تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ امبریش سے انہوں نے خود بات چیت کی ، لیکن انہوں نے فیصلہ لینے کیلئے وقت طلب کیا ہے، دونوں قائدین اگر بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس اپنی مقبولیت کھوتی جارہی ہے۔ ننجنگڈھ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو ایک امیدوار نہیں مل رہاہے، جس کی وجہ سے وہ جنتادل (ایس) کے امیدوار کیشو مورتی کو پارٹی میں لے رہی ہے۔