ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل جامعہ آباد روڈ اور حنیف آباد روڈ پر کچرا پھینکنا اب پڑے گا مہنگا؛ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرےنصب

بھٹکل جامعہ آباد روڈ اور حنیف آباد روڈ پر کچرا پھینکنا اب پڑے گا مہنگا؛ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرےنصب

Sun, 19 May 2024 13:40:43    S.O. News Service

بھٹکل 19/مئی (ایس او نیوز)   ہیبلے پنچایت حدود کے جامعہ آباد روڈ اور حنیف آباد روڈ کنارے کچروں کا اتنا زیادہ ڈھیڑ جمع رہتا ہے کہ  متعلقہ علاقوں سے گذرنے کے دوران   لوگوں کا ہاتھ خودبخود ناک پر چلاجاتا ہے۔ مگر اب  اُن متاثرہ علاقوں  کے  مکین راحت کا سانس لے سکتے ہیں اور اُن علاقوں سے گذرنے والے لوگوں کو بھی  سکون مل سکتا ہے کیونکہ ہیبلے پنچایت   کی طرف سے  تمام علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔

ہیبلے پنچایت کے رکن سید علی نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے تعاون سے   حنیف آباد روڈ پر تین کیمرے، جامعہ آباد روڈ پر تین کیمرے اور منیٰ روڈ پر ایک کیمرہ نصب کیا گیا ہے ۔  آگے  بتایا کہ مزید  جگہوں پر بھی عنقریب کیمرے نصب کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ  اب تمام علاقوں کی مکمل نگرانی ہوگی اوراس بات کا پتہ لگایا جائے گا کہ  متعلقہ علاقوں کو گندگی کے ڈھیر میں  تبدیل کرنے والے کون لوگ ہیں۔

سید علی کے مطابق ہیبلے پنچایت کی طرف سے  گھر کا کچرہ جمع کرنے کے لئے گاڑی کا انتظام کیا گیا ہے، ہر متبادل دن میں  گاڑی گھر گھر پہنچ کر کچرہ جمع کرکے لے جاتی ہے، ایسے میں یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ سڑک کنارے کچرہ پھینکنے والے   مقامی لوگ نہیں ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ دوسرے علاقوں کے لوگ اپنا کچرہ یہاں لاکر پھینکتے ہیں۔ مگر اب  توقع ہے کہ  کیمروں کی تنصیب کے بعد پورا علاقہ صاف ستھرا ہوگا اور کہیں پر بھی راستوں پر کچرہ نظر نہیں آئے گا۔

سید علی نے بتایا کہ ہیبلے پنچایت  میں یہ قرار داد منظور کی گئی ہے کہ کچرہ پھینکتے ہوئے پہلی بار پکڑے جانے کی صورت میں پانچ سو روپیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اُسی شخص کے ذریعے پھینکے ہوئے کچرے کو نکال کر صاف کرایا جائے گا۔ دوسری مرتبہ  پکڑے جانے کی صورت میں  پانچ ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا ساتھ ساتھ  اُس کے خلاف  پولس تھانہ میں شکایت بھی  درج کی جائے گی۔

بتاتے چلیں کہ اسلام میں صفائی کو آدھا ایمان کہا گیا ہے، مگر یہ نہایت تشویش کی بات ہے کہ  مسلم علاقوں میں ہی سب سے زیادہ کچروں کے ڈھیر پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے کہ  جسم و لباس کی صفائی کے ساتھ ساتھ  گلی،محلوں اور سڑکوں کی صفائی کا بھی  خیال رکھا جائے  کیونکہ اچھے ماحول  اور اچھے گھرانوں سے ہی انسان کی پہچان  ہوتی ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ گندگی سے لوگ دور بھاگتے ہیں ،گندگی انسان کی عزت وعظمت کی بد ترین دشمن ہے۔یہ بات عیاں ہے کہ  ہر اسپتال میں مسلمان مریضوں کی تعداد دوسروں کے مقابلے زیادہ رہتی  ہے۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے علاقوں میں گندگی کے ڈھیر پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مچھروں کی بھرمار ہوتی ہے اور تمام بیماریاں مچھروں سے ہی پھیلتی ہیں۔  صحت مند انسان کے لئے اپنے بدن اور اپنے گھر کے ساتھ اپنے  محلوں کی صفائی ستھرائی  بھی ضروری ہے۔

 


Share: