ممبئی۔۳؍جنوری:(پریس ریلیز/ ایس او نیوز)،بھوپال میں ہوئے ۸؍ مسلم نوجوانوں کے مبینہ انکاؤنٹر میں مارے جانے کی آزادانہ تفتیش کے لئے مقتول خالد مچھالے کی والدہ محمودہ بی کی معرفت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے جبل پور ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کئے جانے پر جمعیۃ کے وکلاء نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عدالت اس انکاؤنٹر کی آزادانہ تفتیش کا حکم دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس پٹیشن سے قبل مقتولین کے مختلف وکلاء اور کچھ این جی اوز کی جانب سے ۶ مزید پٹیشن مذکورہ عدالت میں داخل کئے گئے تھے، جسے عدالت نے نامنظور کردیا ہے، مگر اس پٹیشن میں دفاعی وکلاء کی جانب سے پیش کئے گئے قانونی و واقعاتی نکات کی بنیاد پر اسے سماعت کے لئے منظور کرلیا گیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سیل کے سکریٹری اور پیٹیشن داخل کرنے والے ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے دی ۔ اطلاع کے مطابق اس پیٹشن سے قبل جتنے بھی پٹیشن عدالت میں داخل کئے گئے تھے، ان پر عدالت نے مدھیہ پردیش پولیس اورحکومت کو اپنا موقف داخل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر حکومت نے یہ کہا کہ اس واقعے کی تفتیش مدھیہ پردیش پولیس کررہی ہے نیز ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ایس کے پانڈے کے ذریعے بھی اس کی تفتیش کی جارہی ہے، لہٰذا اب مزید کسی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے حکومت کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہوئے تمام پٹیشن کو خارج کردیا۔ جمعیۃ علماء کا پٹیشن اس کے بعد داخل کیا گیا ہے جس کے بارے میں یہ خدشہ تھا کہ عدالت اسے بھی خارج کردے گی، مگر جمعیۃ کے وکلاء نے جن نکات اور شواہد کی بنیاد پر اس واقعہ کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا تھا، عدالت نے اس سے اتفاق کیا اور اسے سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے۔
ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق اگر اس سے قبل کے پیٹشن میں اس واقعے سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں اور واقعاتی ثبوت وشواہد کے ساتھ پیش کئے گئے ہوتے تو بہت ممکن تھا عدالت اس میں سے کوئی بھی پٹیشن خارج نہ کرتی، مگر جلد بازی میں داخل کئے گئے پٹیشن میں بہت سے قانونی نکات نظر انداز ہوگئے جس کی بناء پر ہمارا موقف بھی عدالت میں کمزور ہوجاتا، لیکن ہمارے ساتھی وکلاء نے دن رات محنت کرکے اس تعلق سے تمام پہلوؤں پر قانونی نکات تیار کئے جسے ہم نے عدالت کے روبرو پیش کیا اور عدالت نے اسے سماعت کے لئے منظور کرلیا۔ ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے اس سے قبل عدالت سے خارج ہوئے پٹیشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالت میں ہمارا موقف کمزور ہوسکتا ہے اور عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ ایک ہی معاملے کے جب اتنے پٹیشن خارج کئے جاچکے ہیں تو پھر نئے پٹیشن داخل کرنے کی کیا ضروت ہے۔ اگر ابتداء میں ہی اس تعلق سے کام کررہے تمام لوگ آپسی صلاح ومشورے سے کام کریں تو عدالت میں ہمارا موقف بھی مضبوط ہوگا اور کامیابی کے بھی امکانات بڑھ جائیں گے۔ لیکن اس طرح کی جلدبازی اور معاملے کی نوعیت سے عدم آگاہی کے سبب اس پورے کاز کو نقصان پہونچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم بہت قابل ہیں اور ہم نے ایسے نکات تلاش کئے ہیں جسے عدالت خارج نہیں کرسکتی، مگر ہم نے اور ہماری پوری ٹیم نے اپنے پٹیشن کو عدالت میں تسلیم کئے جانے کے لائق بنانے کے لئے رات دن محنت کی ہے اور ہمیں اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔اس موقع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ بھوپال انکائونٹر معاملے میں عدالت سے جوپٹیشن خارج ہوئے ہیں اسکی ایک وجہ جلد بازی ہے دوسری وجہ قانونی ماہرین کے مطابق مکمل حالات و کوائف کا احاطہ نہ ہوناہے ۔اب اسی معاملے کو سپریم کورٹ لے جانے کی بات کی جا رہی ہے ،خدا نخواستہ اگر سیریم کورٹ نے بھی خارج کر دیا تو پھر مقتولین کو انصاف ملنا دوبھر ہو جائے گا اس لئے مناسب یہی ہے کہ آپسی مشورے سے کام کیا جائے تاکہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور مقتولین کو انصاف مل سکے۔