ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور کو متحرک شہر کا اعزاز ملنا حکومت کی کامیابی کا ثبوت: سدرامیا

بنگلور کو متحرک شہر کا اعزاز ملنا حکومت کی کامیابی کا ثبوت: سدرامیا

Wed, 15 Feb 2017 11:41:05    S.O. News Service

بنگلورو،14؍فروری(ایس او نیوز) شہر بنگلور اس ملک کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ متحرک شہر ہے۔ ریاست میں کانگریس حکومت کے دور اقتدار میں ریاست کو یہ امتیاز حاصل ہوا ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ ریاستی اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کی بحث کا جواب دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ بنگلور کو عالمی مالیاتی فنڈ نے دنیا کا سب سے متحرک شہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بنگلور میں اس طرح کی ترقیاتی مہمات چل رہی ہیں، جس سے متاثر ہوکر ایک عالمی ادارہ نے اس شہر کو یہ مقام دیا ہے۔ شہر بنگلور کو یہ اعزاز ملنا ریاستی حکومت کی حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب تک مختلف نجی کمپنیوں کی طرف سے ملنے والے مقام اور مرتبے پر ناز کیا جاتا تھا ، اب ایک عالمی سطح کے ادارہ نے کرناٹک کو سراہا ہے۔ اس مرحلے میں سابق وزیراعلیٰ اور جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت کی کوششوں سے نہیں بلکہ ریاست کی نجی کمپنیوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں یہ مقام شہر بنگلور کو حاصل ہوا ہے۔ شہر بنگلور کو ترقی دینے میں ریاستی حکومت بری طرح ناکام رہی ہے، ایسے میں بنگلور کو کوئی بین الاقوامی مرتبہ ملتا ہے تو اس کا سہرا اپنے سر لینے کی حماقت نہ کرے۔ کمار سوامی کے تبصرہ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ حقیقت بیان کررہے ہیں ، اگر اس سے جلن ہورہی ہے تو اس جلن کو اپنے اندر رکھیں اس کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور کے منتخب نمائندوں کو اس کامیابی پر فخر ہونا چاہئے۔ اس مرحلے میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہاکہ متحرک شہر کا مقام بنگلور کو ضرور ملا ہوگا، لیکن یہ شہر محفوظ نہیں ہے، یہاں پر برسر عام جرائم سرزد ہورہے ہیں۔ ایک قومی ادارہ نے شہر بنگلور کو غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2011میں جب جگدیش شٹر وزیراعلیٰ تھے تو شہر بنگلور میں ہوئے قتل، فسادات ، راہزنی کے واقعات وغیرہ رواں سال کی تعداد سے کافی زیادہ تھے۔انہوں نے اس موقع پر اعداد وشمار بھی پیش کئے اور اس موازنہ کی بنیاد پر سوال کیا کہ شہر بنگلور تب غیر محفوظ تھا یا اب غیر محفوظ ہے؟۔ اس مرحلے میں بی جے پی کے بسوراج بومائی نے کہا کہ ہر حکومت کے دور میں بنگلور کو کوئی نہ کوئی مقام ملتا رہا ہے۔ اس کا سہرا ہر ایک کے سر جانا چاہئے، صرف ریاستی حکومت کے سر نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس مرحلے میں کہاکہ شہر میسور کو دو مرتبہ ملک کے سب سے صاف ستھرے شہر کا اعزاز گزشتہ دو سال سے ملتا رہا ہے، سوچ بھارت ابھیان کے تحت میسور کو مرکزی حکومت مسلسل اعزازات سے نواز رہی ہے، کیا یہ ریاستی حکومت کیلئے مسرت کی بات نہیں ہے؟۔ اس مرحلے میں جنتادل (ایس) کے سارا مہیش نے کہاکہ میسور کے میئر جنتادل (ایس) کے ہیں ، وزیر اعلیٰ نے جواب دیا کہ صبح سویرے گھروں کے سامنے میئر جاکے صفائی نہیں کرتے۔ اس کا سہرا صفائی کارکنوں اور عوام کے سر جاتا ہے۔


Share: