بنگلورو یکم جنوری (ایس او نیوز) شہری حدود کے تحت بلدی اداروں کی حدود میں منظور شدہ پلان سے ہٹ کر غیر قانونی طور پرتعمیرکی گئی عمارتوں کو قانونی شکل دینے کے لئے ریاستی حکومت کی "اکرما۔ سکرما"اسیکم کو جاری کردیا گیا ہے جس کے لئے کرناٹک ہائی کورٹ نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔
ہائی کورٹ کی طرف سے اس اسکیم کو لاگو کرنے کی اجازت کے ساتھ ہی کچھ ٹیکنیکل مسائل کو حل کرنے کے بعد وزیراعلیٰ سدارامیا نے برہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی)، بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (بی ڈی اے) اور اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ اس اسکیم کے تحت غیر قانونی تعمیرات کو قانونی بنانے کے لئے عوام سے درخواستیں طلب کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیاجائے۔
اس بات کی اطلاع بنگلورو ڈیولپمنٹ منسٹر کے، سی جارج نے اخباری نویسوں کو دی۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے 4 مہینوں کا وقفہ دیا جائے گا۔یہ وقفہ یکم جنوری 2017 سے شمار کیا جائے گا۔ اس میں پھر کسی قسم کی توسیع نہیں کی جائے گی۔ رہائشی عمارتوں میں 50%اور تجارتی عمارتوں میں 25%تک قانون کی خلاف ورزی کواس اسکیم کے تحت درست کرکے قانونی شکل دی جائے گی۔ اگر خلاف ورزی اس مقررہ حد سے زیادہ کی گئی ہوگی تو پھر ایسی عمارتیں منہدم کردی جائیں گی۔ اسکیم کے تحت سکرما کے لئے شرط یہ بھی ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر19/اکتوبر 2013سے پہلے ہوئی ہو۔
عوام اس کے لئے بلدی اداوں میں ذاتی طور پر یا آن لائن درخواستیں بھی دے سکتے ہیں۔ بی بی ایم پی کے ذرائع کے مطابق بنگلورو میں 80%سے زیادہ عمارتیں منظور شدہ پلان سے ہٹ کر قانونی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔ "اکرما۔ سکرما" اسکیم کے تحت ان عمارتوں پر جرمانہ لگانے کے بعد ان کو قانونی شکل دی جائے گی۔ فیصلہ یہ بھی ہوا ہے کہ چار مہینوں کا جو وقفہ دیا گیا ہے اگر اس دوران اس قسم کی کسی عمارت کو قانونی شکل دینے کے لئے درخواست نہیں دی جاتی تو پھر اس وقفے کے بعد اسے ڈھا دیا جائے گا۔اس کے علاوہ زمین کی ملکیت اگر کسی کے نام پر رجسٹر نہیں ہوئی ہے اور صرف عام مختار نامہ یا جی پی اے کے تحت کسی نے عمارت تعمیر کی ہے تب بھی اسے اسکیم میں شامل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اس اسکیم کے تحت وہ عمارتیں قانونی شکل دینے کے لئے شامل نہیں کی جائیں گی جو کسی سرکاری زمین یا پارک، کھیل کے میدان وغیرہ کے لئے مختص زمین پر تعمیر کی گئی ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے اس قاعدے میں کسی بھی ترمیم سے انکار کیا ہے۔
مسٹر ایشور کھانڈرے ریاستی وزیر برائے میونسپالٹیز اینڈلوکل باڈیز نے بتایا کہ اکرما سکرما اسکیم کے غیر قانونی تعمیرات کو قانونی شکل دینے کے لئے کرناٹکا ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ کے قوانین کے تحت اور تمام تر شفافیت کے ساتھ کارروائی انجام دی جائے گی۔
لیکن کچھ غیر سرکاری تنظیمیں (این جی او) اور دیگر افراد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے جارہے ہیں جس سے اس معاملے پر پھر سے روک لگنے کے امکانات اپنی جگہ برقرار ہیں۔