لندن،10؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)برطانوی دارالحکومت میں ہزارہا شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے برطانیہ کے یورپی یونین سے آئندہ انخلاء کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ’یورپ کے لیے عوامی مارچ‘ کے نام سے اس احتجاج کے دوران شرکاء4 نے وسطی لندن میں ملکی پارلیمان تک مارچ کیا۔لندن سے ہفتہ نو ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق آج کی اس بڑی احتجاجی ریلی میں شریک مظاہرین ملکی حکومت کے ان منصوبوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جن کے مطابق برطانیہ 2019ء4 تک یورپی یونین سے نکل جائے گا۔ اس حکومتی فیصلے کی بنیاد برطانیہ میں گزشتہ برس کرایا جانے والا ایک عوامی ریفرنڈم بنا تھا۔منتطمین کے مطابق اس مارچ کے انعقاد کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی عوام کو متحد ہو کر دوبارہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا جائے کہ قدامت پسندوں کی ٹوری پارٹی کی قیادت میں کیا جانے والا یہ فیصلہ منسوخ کیا جانا چاہیے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے۔ اس مارچ کے دوران، جس میں ہزارہا شہریوں نے شرکت کی، شرکاء4 میں سے بہت سے یورپی یونین کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کئی دیگر نے یا تو اپنے چہرے یورپی یونین کے پرچم کے رنگوں کے ساتھ پینٹ کر رکھے تھے یا پھر وہ ایسے بینر اٹھائے ہوئے تھے، جن پر لکھا تھا، ’’یونین سے نکلنے کے بجائے بریگزٹ سے نکلو۔‘‘اس موقع پر لندن میں ملکی پارلیمان کے ایک لبرل ڈیموکریٹ رکن ایڈ ڈیوی نے ریلی کے شرکاء4 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ لندن حکومت کس طرح یورپی یونین کے نمائندوں کے سامنے برطانیہ کے موقف کی نمائندگی کر رہی ہے۔ایڈ ڈیوی نے کہا، ’’برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ سے متعلق اپنی بات چیت شروع کر چکا ہے۔ ہمارے لیے یہ بات اب غصے کی حد تک نکل کر شرمندگی کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس لیے اب برطانوی حکمرانوں کو بھی شرمندہ ہونا چاہیے، جو پورے برطانیہ کو شرمندہ کروا رہے ہیں۔‘‘اس مظاہرے میں شامل بہت سے شرکاء4 اور کئی دیگر مقررین نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ برطانوی عوام کو ایک بار پھر یہ موقع دیا جانا چاہیے کہ جب بریگزٹ مذاکرات مکمل ہو جائیں، تو وہ حتمی طور پر منظوری دے سکیں کہ آیا برطانیہ کو واقعی یورپی یونین کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔