بنگلورو،14؍فروری(ایس او نیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے امسال پیش ہونے والا بجٹ غالباً ریاستی اسمبلی انتخابات سے پہلے کا آخری بجٹ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے اس بجٹ میں اقلیتوں کیلئے زیادہ سے زیادہ فلاحی اسکیموں کو حاصل کرنے کیلئے ریاست کی اقلیتی بالخصوص مسلم قیادت متحرک ہوچکی ہے۔ مسلم لیجسلیٹرس فورم کی طرف سے اس سلسلے میں وزیر برائے اقلیتی بہبود، اوقاف ، بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ کی رہائش گاہ پر ایک غیر رسمی بات چیت کا بھی اہتمام کیاگیا، جس میں مسلم قائدین نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کے سامنے بجٹ کی مناسبت سے مسلمانوں کے چند مطالبات رکھنے پر اتفاق کیا۔ مسلم لیجسلیٹرس فورم کے سکریٹری اور رکن کونسل عبدالجبار نے آج اخباری نمائندوں کو بتایا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے معاملات میں جن مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیاہے، وزیراعلیٰ سدرامیا نے اقتدار ملنے سے قبل انتخابی منشور میں یہ اعلان کیا تھاکہ ان میں سے بے قصوروں کی نشاندہی کرکے ان پر مقدمے واپس لئے جائیں گے۔ اس کیلئے ایک کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ، اس کی کارروائی میں مزید تیزی لانے پر زور دیا جائے گا۔ چونکہ یہ آخری بجٹ ہے اسی لئے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر زور دیا جائے گا کہ اس میں اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ گزشتہ سال اقلیتوں کیلئے بجٹ میں 1400کروڑ روپیوں کی رقم مختص کی گئی تھی، لیکن اب تک اس میں اضافہ کے ساتھ تقریباً 1600کروڑ روپے مل چکے ہیں۔ اس بار یہ مشورہ کیاگیا ہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا سے کم از کم 2600کروڑ روپے اقلیتوں کے بجٹ کیلئے طلب کئے جائیں۔ اس کیلئے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر زور دیا جائے گا کہ اقلیتوں کیلئے شادی محلوں کی تعمیر کی اسکیم کے ساتھ ہاسٹلوں کی تعمیر کی ایک اسکیم بھی مرتب کی جائے ۔سرکاری یا اوقافی زمینات کی نشاندہی کرکے ریاست بھر میں اقلیتوں کیلئے ہاسٹلوں کی تعمیر کا منصوبہ بنانے پر اتفاق کیاگیا۔ پہلے مرحلے میں ریاست کے 75 تعلقہ جات میں مولانا ابوالکلام ہاسٹل کی تعمیر کا اعلان بجٹ میں کرنے سدرامیا سے گذارش کی گئی ہے۔ دہلی کے اسلامک کلچرل سنٹر کے طرز پر راجدھانی بنگلور میں ایک مرکز کی تعمیر کیلئے حکومت کی طرف سے مالی تعاون کا اصرار کیا جائے گا۔ شہر بنگلور میں اردو ہال کی تعمیر ایک دیرینہ مطالبہ رہی ہے۔ کسی سرکاری زمین کی نشاندہی کرکے یا زمین مہیا کرواکر یہاں پر اردو ہال کی تعمیر کا اعلان کرنے پر بھی زور دیاجائے گا۔ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت ہر سرکاری محکمہ میں اقلیتوں کیلئے 15 فیصد اور اس میں سے مسلمانوں کیلئے دس فیصد حصہ داری یقینی بنانے پر زور دیا جائے گا۔ درج فہرست ذاتوں کے پلان اور قبائلیوں کے سب پلان کے طرز پر اقلیتوں کیلئے جو فنڈز مہیا کرائے جائیں گے ان کو خرچ کرنا لازمی قرار دئے جانے پر بھی سدرامیا سے مطالبہ کیا جائے گا۔ شہر گلستان بنگلور میں 800 سلمس کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے 300 سلمس میں مسلمانوں کی آبادی بہت کثیر ہے۔ وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے اس بات پر زور دیا کہ ان مسلم آبادی والے سلم علاقوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا پر زور دیں گے اور اپنے محکمہ کے ذریعہ ان علاقوں میں بہتر سہولتیں مہیا کرانے کے سلسلے میں بجٹ میں فنڈز مختص کرائیں گے۔ وزیر اوقاف تنویر سیٹھ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ ریاست بھر میں عیدگاہوں اور قبرستانوں کی حصار بندی کیلئے بجٹ میں 25کروڑ روپیوں کے خصوصی فنڈ پر زور دیا جائے۔ ریاست کے بہت سارے قصبوں میں قبرستان موجود نہیں ہیں، وزیر اعلیٰ پرزور دیا جائے گا کہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی جائے کہ مسلمانوں کیلئے قبرستانوں اور دیگر اقوام کیلئے شمشان کی زمینات مہیا کرائی جائیں ، اگر سرکاری زمین دستیاب نہیں ہیں تو دوسری زمینات خرید کر متعلقہ قوموں کو دی جائیں۔ فی الوقت وقف بورڈ کے توسط سے محکمۂ اقلیتی بہبود مساجد کے پیش اماموں اور موذنوں کو ماہانہ 3500 اور 2500 روپیوں کا اعزازیہ ادا کررہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اس اسکیم کے تحت اعزازیہ کی رقم پیش اماموں کیلئے پانچ ہزار روپے اور موذنوں کیلئے 3500 روپے کی جائے۔ اس بات پر زور دیا جائے گا کہ یشسوینی اسکیم کے تحت ہنر مند اقلیتی افراد کو کوآپریٹیو اداروں کی رکنیت اور علاج کی سہولت مہیا کرانے کیلئے حکومت ترغیبی اسکیم لاگو کرے۔ اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ آنے والے انتخابات کو قریب دیکھ کر ریاست بھر میں اقلیتی آبادی والے علاقوں میں حالات کو دانستہ طور پر بگاڑنے کیلئے چند شرپسند کوشش کرسکتے ہیں، اسی لئے اقلیتی علاقوں میں کم از کم ایک اقلیتی طبقے سے وابستہ ذمہ دار پولیس افسران بطور ڈی وائی ایس پی یا سرکل انسپکٹر متعین کیا جائے۔ اقلیتی کمیشن کی سفارش کے مطابق ریاست میں مساوی مواقع کمیشن پر بھی زور دیا جائے گا۔ میٹنگ میں ریاستی لیجسلیٹرس فورم کے صدر وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ، وزیر برائے اقلیتی بہبود ، اوقاف وتعلیمات تنویر سیٹھ ، رکن کونسل اقبال سرڈگی ، سابق وزیر قمر الاسلام، اراکین کونسل عبدالجبار، مدیر آغا، اقلیتی کمیشن چیرمین نصیر احمد ، اقلیتی ترقیاتی کارپوریشن چیرمین ایم اے غفور ، محکمۂ اقلیتی بہبود کے سکریٹری محمد محسن ، اردو اکادمی کے چیرمین عزیز اﷲ بیگ وغیرہ موجود تھے۔