تہران7مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک وڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں ایرانی پولیس کی گاڑی ایک لڑکی کو اْس کے حجاب کی وجہ سے روندتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے کیوں کہ حکام کے مطابق مذکورہ لڑکی کا حجاب اْن کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں ہے۔اس واقعے کی تاریخ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم ایرانی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ وڈیو ایرانی دارالحکومت تہران میں بنائی گئی۔وڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ پہلے پولیس کی گاڑی میں بیٹھی لڑکی سے عہد کروایا گیا کہ وہ اپنے حجاب کودرست کرلے گی تاہم جب لڑکی گاڑی سے اتر کر سڑک پار کرنے کے لیے پولیس کی گاڑی کے آگے پہنچی تو یک دم گاڑی حرکت میں آگئی اور اس کو ٹکر مار کر روند دیا۔ اس پر اچانک موبائل سے وڈیو بنانے والی شخصیت بھی خوف کے مارے چلاتے ہوئے غالباََجائے مقام کی جانب دوڑ پڑی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ واقعے کے بعد لڑکی کے ساتھ کیاہوا۔ایرانی قانون ملک میں تمام خواتین پر حجاب لاگو کرتا ہے تاہم ان میں اکثر خواتین محض سر پر ایک چھوٹے سے اسکارف پر ہی اکتفا کر لیتی ہیں جس میں بال جزوی طور پر ڈھکے ہوتے ہیں جب کہ چہرہ اور گردن ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان لڑکیاں تنگ اور چست لباس بھی زیب تن کر لیتی ہیں جس پر سخت گیر حلقے طیش میں آ جاتے ہیں۔گزشتہ برس ایرانی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ تہران میں لڑکیوں اور خواتین کے حجاب کی نگرانی اور حجاب نہ کرنے والی بناؤ سنگھار کا اظہار کرنے والی خواتین کی گرفتاری کے لیے دارالحکومت تہران میں سادہ لباس والے7000 خفیہ پولیس اہل کار تعینات کیے گئے تھے جن میں مرد اور خواتین شامل تھیں۔تہران میں ٹریفک پولیس کے سربراہ سیدتیمورحسینی کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران تقریباََ40ہزارگاڑیوں کوپکڑاگیاجن کوبغیرحجاب والی لڑکیاں چلا رہی تھیں۔