سرینگر،6اگست(آئی این ایس انڈیا): جموں کشمیر پولیس نے امرناتھ یاتریوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے معاملے کو حل کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔پولیس نے بتایا کہ حملے میں لشکر کا ہاتھ ہے۔پولیس نے اس معاملے میں 3دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، لیکن ماسٹر مائنڈ ابو اسماعیل اور اس کے دو ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔گرفتار دہشت گردوں میں 2پاکستانی اور ایک کشمیری ہے۔3دہشت گرد اب بھی گرفت سے باہر ہیں۔پولیس کا دعوی ہے کہ انہیں بھی جلد ہی پکڑ لیا جائے گا۔پولیس نے معلومات دی کہ دہشت گردوں کا پلان پہلے 9جولائی کو اس حملے کو انجام دینے کا تھا، لیکن سی آر پی ایف یا مسافروں کا کوئی گاڑی نہیں ملنے پر انہیں اپنے پلان میں ردوبدل کرنا پڑا اور بعد میں انہوں نے اگلے دن 10جولائی کو اس حملے کو انجام دیا۔آئی جی منیر خان نے کہا کہ تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔تینوں ملزمان نے تمام چیزوں کا انکشاف کر دیا ہے۔دہشت گردوں نے مسافر گاڑی کے لئے شوکت،سی آرپی ایف گاڑی کے لئے بلال کوڈ ورڈ دیا۔یہ مکمل طور پر دہشت گردانہ حملہ تھا۔اس سے پہلے جنوبی کشمیر پولیس نے اس سلسلے میں اوور گراؤنڈ ورکرز کے پورے جتھے کو گرفتار کیا۔پولیس انہیں بغیر ہتھیار والے دہشت گرد بتا رہی ہے۔اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ابو اسماعیل سمیت حملے میں شامل لشکر طیبہ کے تین دہشت گرد اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے لشکر کمانڈر ابو دجانہ کے بعد ابو اسماعیل کو ہی لشکر کی کمان سونپی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ان دہشت گردوں نے ہی امرناتھ یاتریوں پر حملے کے لئے فنڈ کا اہتمام کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کال ڈٹیلس کی چھان بین سے یہ اوور گراؤنڈ ورکس پولیس کے ہتھے چڑھے۔یہ باہمی بات چیت میں کورڈ ورڈس کا استعمال کرتے تھے، جس سے پولیس کی توجہ اس جانب گئی۔وہیں پولیس سے بچنے کے لئے یہ دہشت گرد ارد گرد کے گھروں یا پھر نالوں میں چھپ جایا کرتے تھے۔