ماسکو،14؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)روس اس ہفتے ماسکو میں ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے جس میں خطے کے کلیدی ممالک افغانستان میں جاری تنازع کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔اس کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو سمیت کوئی مغربی طاقت موجود نہیں ہو گی۔ماسکو میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس روس کی طرف سے افغانستان میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی ایک کوشش ہے۔1979 میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ماسکو کی طرف سے ایسی کوشش کی جا رہی ہے،تاہم روس کا کردار ابتدا ہی سے متنازع رہا ہے۔افغانستان کے بارے میں گزشتہ کانفرنس ماسکو نے دسمبر 2016 میں منعقد کی تھی اور اْس میں صرف چین اور پاکستان شامل تھے۔افغان حکومت اس بارے میں زیادہ خوش نہیں تھی، اب اس کانفرنس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور ایران بھی شامل ہیں لیکن امریکہ اور نیٹو اس میں شریک نہیں ہیں۔بیشتر لوگ اس صورت حال کو روس اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔امریکہ کی سنیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کی ایک حالیہ سماعت میں کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ روس امریکہ کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو تقویت دے رہا ہے۔اگرچہ بعض مقامی تجزیہ کار اس کانفرنس کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔