میرٹھ،2جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسیز)بی جے پی حکومتوں والی ریاستوں میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ یوپی ،مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ کے بعد ایک بار پھر اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں شرپسند عناصر نے غنڈہ گردی مچائی ہے ۔ اترپردیش کے شہر میرٹھ میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم پر درجن بھر نامعلوم نقاب پوش نوجوانوں نے اچانک حملہ کردیا۔ یہ طالب علم کشمیر کا رہنے والا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایم اے سیکنڈ ایئر کا طالب علم انیس میس بند ہونے کی وجہ سے باہر کھانا کھاکر یونیورسٹی ہاسٹل میں واپس لوٹ رہا تھا، تبھی اچانک نامعلوم حملہ آوروں نے اس پر دھاوا بول دیا اور انیس کی بری طرح پٹائی کر دی، جس سے انیس کو کافی چوٹ آئی اور وہ زخمی ہو گیا۔انیس اپنے ساتھی طالب علموں کے ساتھ تھانے پہنچا اور پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ انیس کے سر میں کافی چوٹ لگی ہے۔ انیس کا کہنا ہے کہ کچھ نقاب پوش نوجوان آئے اور انہوں نے اس کا نام پوچھا اور کہا تو کشمیری اور مسلم ہے۔ اتنا کہنے کے بعد انہوں نے پیٹنا شروع کر دیا ۔ پولیس نے متاثرہ طالب علم کی تحریر لے کر جانچ شروع کر دی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہوگئی ہے۔انیس خان چرن سنگھ یونیورسٹی میں ایم ایس جیالوجی سمسٹر دوم کا طالب علم ہے ۔ طالب علم کے مطابق ہاسٹل کے قریب موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نوجوانوں نے اسے درمیان راستے میں روکا اورنام وپتہ پوچھنے کے بعد پٹائی شروع کردی۔ پولیس کے مطابق تحریری شکایت کی بنیاد پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں جن کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے ۔
پیٹ پیٹ کر قتل جیسے واقعات پرینکا کا سخت ردعمل:پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعات سے مجھے بے حد غصہ آتا ہے اور میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ نیشنل ہیرالڈ کی جانب سے یادگاری شمارہ کے اجرا کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے الگ پرینکا سے پوچھا گیا تھا کہ پیٹ پیٹ کر قتل جیسے واقعات کو لے کر کیا ان کی بھی رائے اپنی ماں اور کانگریس صدر سونیا گاندھی اور صدر پرنب مکھرجی کی طرح ہی ہے۔پرینکا نے ایک چینل سے بات چیت میں کہا کہ میری رائے بھی پوری طور پر وہی ہے۔ ان سے مجھے بے حد غصہ آتا ہے، جب میں ایسی چیزیں ٹی وی یا انٹرنیٹ پر دیکھتی ہوں تو میرا خون کھولنے لگتا ہے، مجھے بہت زیادہ غصہ آتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس سے صحیح سوچ والے ہر ایک شخص کا خون کھولنا چاہئے۔خیال رہے کہ صدر پرنب مکھرجی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ہفتہ کو نیشنل ہیرالڈ کے یادگاری شمارہ کو لانچ کیا۔ اس پروگرام میں پرینکا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران بھی موجود تھے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ بھیڑ کے ذریعہ لوگوں کو جان سے مارنے کے واقعات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر کانگریس صدر سونیا گاندھی نے موجودہ این ڈی اے حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ قانون پر عمل کروانے کی ذمہ داری جس پر ہے، وہ ان کی حمایت کر رہے ہیں، جو کیا کھائیں یا نہیں، کس سے محبت کریں اور کس سے نہیں، جیسی چیزوں پر زبردستی اپنے خیالات مسلط کررہے ہیں۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ گھریلو بدانتظامی بھی خارجہ بدانتظامی کی طرح ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقتدار کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی، تو پھر یہ ہماری رضامندی سمجھی جائے گی۔
جے شری رام بولو ورنہ گاڑی جلا دیں گے: میں دہلی میں26سال سے صحافت کر رہا ہوں۔میں نے28جون2017 کو اپنے91سالہ والد، 85سالہ والدہ، اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ بہار کے ویشالی ضلع کے کاجی گاؤں سے اپنے ننھیال، ضلع سمستی پور کے رحیم آباد گاؤں جانے کے لیے سفر کا آغاز کیا۔مظفر پور نیشنل ہائی وے 28کے ٹول پلازے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور مارگن چوک جانے والے راستے پر ٹریفک جام تھا۔ سڑک کی ایک جانب ٹرکوں سمیت دیگر گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں، میں دوسری جانب سے اپنی گاڑی آگے لے جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ روڈ کے درمیان میں ایک بہت بڑا ٹرک کھڑا کر دیا گیا ہے۔اچانک ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر کار کو غور سے دیکھا، میں نے اس سے پوچھا راستہ کیوں جام ہے۔میرے اس سوال پر اس نے کہا جلدی نکلو ورنہ آپ کی گاڑی کو جلا دیا جائے گا۔ میں نے پوچھا کون لوگ ہیں؟ جواب ملا بجرنگ دل کے لوگ ہیں، میں گھبراہٹ میں گاڑی موڑنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ چار۔ پانچ لاٹھی بردار لوگ کار کی طرف بڑھے۔ان لوگوں نے گاڑی کے اندر بیٹھے میرے والدین اور میری بیوی پر نظر ڈالی۔چونکہ، میرے والد باریش ہیں اور میری بیوی نقاب پہنتی ہیں۔انہیں دیکھتے ہی’’جے شری رام‘‘کے نعرے تیز ہو گئے یہ لوگ مسلسل لاٹھیاں سڑک پر پٹخ رہے تھے۔اس وقت میں اور میرا خاندان گھبراہٹ سے کانپ رہا تھا۔جب تک کچھ سمجھ میں آتا تو دو لوگ میری گاڑی کے شیشے کے قریب آکر چیخے ،’’بولو جے شری رام‘‘ بولو ورنہ گاڑی کو جلا دیں گے۔دور کھڑے ٹرک کے پاس سے سیاہ دھویں کا غبار بھی نظر آ رہا تھا، گویا وہاں کسی کی گاڑی جلا دی گئی ہو۔لیکن مصیبت سامنے تھی لہٰذا میں نے اور میرے خاندان کے تمام لوگوں نے جے شری رام کے نعرے لگائے۔میں دل سے رام کا احترام کرتا ہوں اور اس احترام پر مجھے کچھ اعتراض بھی نہیں لیکن جس خوف اور گھبراہٹ میں مجھے جے شری رام کہنا پڑا یہ مجھے اچھا نہیں لگا۔جیسے تیسے گاڑی کو واپس موڑ کر ہم اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے اور کچھ دور جانے کے بعد میں نے ٹوئٹر پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔اس کے علاوہ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار اور مقامی ممبر اسمبلی اخترالاسلام شاہین کو فون کر کے معاملے کے بارے میں آگاہ کیا۔میں نے درخواست کی کہ فوری طور پر پولیس کو بھجوایا جائے تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے اور کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ چونکہ میرا یہ سفر ماں کو ان کے بیمار بھائی کی تیمارداری کے لیے تھا۔
لہٰذا میں دوسرے راستے سے رحیم آباد کے لیے نکل پڑا۔مختلف راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہم کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد میں رحیم آباد پہنچے۔ ہمیں اسی رات واپس ویشالی لوٹنا بھی تھا اسی لیے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد رات آٹھ بجے میں نے پھر ممبر اسمبلی اخترالاسلام شاہین صاحب کو فون لگا کر اس راستے پر موجود کشیدگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں۔تھوڑی دیر بعد انہوں نے فون کرکے بتایا کہ علاقے میں اب بھی کشیدگی ہے۔ ان کے فون کے بعد مجھے ہمت نہیں ہوئی کہ میں اپنے خاندان کو لے کر اسی راستے سے واپس ویشالی جاؤں۔
لہٰذا، میں نے اپنا پروگرام کینسل دیا۔اس کے بعد شاہ پور کے مجیب صاحب کے گھر رات گزار کر ہم29 جون کو ویشالی کے لیے روانہ ہوئے۔ لیکن وہ خوف آج بھی ذہن پر سوار ہے کہ آخر کچھ لوگوں کو مذہب کے نام پر موت بانٹنے کی ہمت کیسے ہوئی؟علاقے کی انتظامیہ سوئی رہتی ہے جس کی کان میں جوئی تک نہیں رینگتی، میرے ذہن میں ایک سوال گونج رہا ہے کہ کیا نتیش کمار کی حکومت ناکام ہو رہی ہے؟ یا پھر بیوروکریسی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے؟لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ میں اپنے ننھیال بچپن سے ہی آتا جاتا رہا ہوں اور کبھی ایسا پاگل پن اور خوف مجھے سڑکوں پر نہیں دکھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کو کیا ہوتا جا رہا ہے، کس کی نظر لگ گئی ہے؟