نئی دہلی30اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عالم اسلام کے عظیم رہنما،ہردلعزیزاورمقبول شخصیت اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا بھارت کا دو روزہ دورہ ترکی میں آئینی ریفرنڈم کے بعد اُن کاپہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ اس دوران تجارت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی جیسے امور پر بھی بات ہو گی۔
آئینی ریفرنڈم میں اپنی کامیابی کے بعد اب ایردوآن دنیا کے بڑے اور اہم ممالک کے دورے پر نکلے ہیں۔ سب سے پہلے وہ بھارت جا رہے ہیں، جس کے بعد اُن کی اگلی منزل روس ہو گی۔ اس مہینے کے آخر میں وہ امریکا جا کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملیں گے اوربعدازاں برسلزپہنچ کرمغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی سربراہ کانفرنس میں شریک ہوں گے۔
بھارت کے دو روزہ دورے کے دوران ایردوآن وزیر اعظم نریندر مودی اور اپنے ہم منصب پرنب مکھرجی کے ساتھ ساتھ دیگر سرکردہ بھارتی رہنماؤں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کریں گے اور ترکی انڈیا بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے۔ واضح رہے کہ ایک ایک سو پچاس رکنی اقتصادی وفد بھی ایردوآن کے ہمراہ ہے۔ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولُوکے مطابق ایردوآن اپنے اس دورے کے دوران اپنی اس خواہش کا پُر زور اظہار کریں گے کہ بھارت ایسے کاروباری مراکز اور تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کرے، جن کے امریکامیں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ایردوآن اور گولن کسی زمانے میں ایک دوسرے کے قریبی ساتھی تھے تاہم اب اُن کے درمیان وسیع تر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ گولن ان الزامات کی تردید کرتے ہیں تاہم ایردوآن اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ گزشتہ سال جولائی میں ترکی میں ایردوآن کے خلاف بپا ہونے والی ناکام بغاوت کے پیچھے گولن اور اُن کے پیروکاروں کا ہی ہاتھ تھا۔ ایردوآن کے دورۂ ہند اور مودی کے ساتھ ہونے والی اُن کی ملاقات کے حوالے سے اپنے ایک جائزے میں ان دونوں رہنماؤں کے درمیان مشترک قدروں کا ذکر کیا ہے۔ اُن کے مطابق دونوں دائیں بازو کے قدامت پسند اور قوم پرست ہیں اور دونوں ہی نے مذہبی گروپوں کے ساتھ وابستگی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔موجمدار لکھتے ہیں کہ دونوں ہی روایتی مقتدر طبقات کے خلاف لڑنے کا اور اپنے اپنے ملکوں کے عام آدمی کے لیے ایک بہتر مستقبل کا خواب رکھتے ہیں:جہاں مودی اور اُن کے حامی ہندو قوم پرستی کی ایک کٹر شکل کی وکالت کرتے ہیں، وہاں ایردوآن اور اُن کے پیروکار مسلم قدامت پسندی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایشیا اور بحراکاہل کے خطّے میں بھارت ترکی کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے تاہم بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2015ء اور 2016ء کے مالی سال میں ترکی اور بھارت کی باہمی تجارت میں اٹھائیس فیصد کی کمی ہوئی۔ اس دورے کے دوران اس موضوع پر بھی بات ہوگی کہ کیسے دونوں ملکوں کے مابین تجارتی روابط کو زیادہ مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔موجمدارکے مطابق ایردوآن اور مودی کے مذاکراتی ایجنڈے میں تجارت سے بھی زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اوراڑتالیس رُکنی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی)میں شمولیت کی بھارتی خواہش کواہمیت حاصل ہو گی۔ ترکی اس کلب کا رکن ہے اوریہ موقف رکھتا ہے کہ اس کی رکنیت کے سلسلے میں پاکستان اوربھارت دونوں کی درخواستوں کا مساوی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔