ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / آسام میں حق شہریت کے مسئلے پراہم پریس کانفرنس

آسام میں حق شہریت کے مسئلے پراہم پریس کانفرنس

Tue, 02 May 2017 23:12:34    S.O. News Service

نئی دہلی2مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آج یہاں جمعےۃ علماء ہند کے دفتر مفتی کفایت اللہ ہال نئی دہلی میں آسام میں حق شہریت کے مسئلے پر اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں  جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمودمدنی، مولانا بدرالدین ا جمل صدر جمعےۃ علماء آسام، ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند،ایڈوکیٹ مظہر بھوتیا،ایڈوکیٹ امین الاسلام اور ایڈوکیٹ قاسم نے میڈیا کے سامنے آسام میں حقیقی شہریو ں کے خلاف ہو رہی سازش اور دیگر قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈ الی۔اس موقع پر مولانا محمود مدنی نے وا ضح طور سے کہا کہ سرکار، آسام اکور ڈ 1985کی پاسداری کرے اور اس کے مطابق ہی شہریت کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا مدنی نے آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہریت میں کی جارہی تفریق کی مذمت کی اور کہا یہ اسٹیٹ اسپانسر ڈکمیونلزم ہے جو ملک کے دستور اور روایات کے سراسر منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنا نا متحدہ قومیت اور سیکولرز م کے منافی ہے۔جمعےۃ علماء ہند نے ہمیشہ متحدہ قومیت کی حمایت کی ہے اور ا س نے مذہب کی بنیاد پر ٹو نیشن تھیوری کو مستر دکیا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ اگر آسام میں کوئی غیر ملکی شخص غیر قانونی طور پر آکر رہ رہا ہے تو اسے ملک سے فورا نکالا جانا چاہیے،چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، مگر کسی حقیقی شہری(Genuine citizen) کو بلا وجہ پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعےۃ علماء آسام نے کہا کہ جمعےۃ علماء آسام اپنے قومی صدر امیر الہند مولانا سید محمدقاری عثمان منصور پوری اور جنرل سکریٹری مولانا سید محمود اسعد مدنی کی نگرانی میں سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑرہی ہے اور اس سے سلسلے میں جمعےۃ کی سینئر وکلاء کی ٹیم نے مورخہ یکم مئی ۷۱۰۲ کو آسام میں شہریت سے متعلق مقدمات میں اپنے موقف کی تائید میں سپریم کورٹ میں تحریری جوابات اور متعلقہ ضروری دستاویز ات جمع کرکے اس بات کی پر زور وکالت کی ہے کہ آسام میں شہریت کے فیصلہ کے لیے ۵۲ مارچ  ۱۷۹۱ کو ہی بنیاد قرار دیا جائے جیساکہAssam Accord 1985  میں کہا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند اور اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے ذمہ داران  نے دیگر پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آسام میں شہریت کا معاملہ تقریبا گزشتہ ۸۳ سالوں سے انتہائی سنگین رہا ہے اور غیر ملکی کے نام پر وہاں کے لوگوں کو پریشان کیا جاتا رہا ہے، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جس کی وجہ سے ماضی میں فساد کے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں اورکروڑوں کی جائیداد برباد ہو چکی ہیں۔ آسام کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی اور خاص کر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جس میں ۳۸۹۱ میں ہوئے "نیلی Nellie) (نسل کشی" کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جس میں تقریبا ۳ ہزار لوگوں کو محض ۶گھنٹے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر متأثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔ اس نسل کشی کو انجام دینے والوں کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں ہو ئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آسام میں 1978سے  1985 کے درمیان آل آسام اسٹوڈینٹس سمیت کچھ تنظیموں کی جانب سے پہلے غیر آسامیوں پھر غیر ملکیوں اور خاص کر بنگلہ دیشیوں کے خلاف زبردست تحریک چلی جو بعد میں جاکر مسلم مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئی، جس کا اختتام  1985  میں  Assam Accord  کے وجود میں آنے کے ساتھ ہوا۔Assam Accord جواس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی موجودگی میں مرکزی حکومت، آسام حکومت اور تحریک چلانے والے لیڈروں کے درمیان  باہمی رضامندی سے ہوا تھا اور اس وقت کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں نے اسے قبول کیا تھا، اس کے مطابق ۵۲، مارچ   1971 (Cut off date)  بنیاد مان کر اس سے پہلے آسام آکر بس جانے والوں کو ہندوستانی شہری تسلیم کیا گیا تھا۔چنانچہ اس کے بعد ہی اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی لیڈرشپ میں مر کزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل کے ذریعہ  Citizenship Act -1955  میں section 6-A  داخل کر کے اسے منظوری دی جس پر اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس، بی جے پی، لیفٹ اور  تمام غیر سیاسی جماعتوں اورسماجی تنظیموں نے بھی اسے قبول کیا تھا۔مگر2009  میں اور پھر 2012  میں آسام سنمیلیٹا مہا سنگھ "  سمیت مختلف فرقہ پرست اور مفاد پرست افراد اور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں  274/2009 and PIL No 562/2012   PIL Noفائل کر دیا او ر25  مارچ 1971 کی بجائے  1951  کے ووٹر لسٹ کو  بنیاد بناکر آسام میں شہریت کا فیصلہ کرنے کی وکالت کی  نیز  Assam Accord کی قانونی حیثیت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ Citizenship Act -1955  میں Section 6-A  کے اندراج کو بھی چیلنج کیا، جس کی وجہ سے آسام کے لاکھوں لوگوں بلکہ ہر تیسرے شخص کی شہریت پر خطرہ منڈلانے لگا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علما ء ہند (حسب ہدایت حضرت مولانا محمود مدنی) نے ان تنظیموں کے موقف کے خلاف اور  Assaam Accord  کی تائید میں سپریم کورٹ میں فورا پٹیشن داخل کیا، اس کے بعد آل آسام مایناریٹی اسٹو ڈینٹس اورسیٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی(سی آر پی سی) نامی تنظیموں نے بھی جمعیۃ علماء ہند کے موقف کے ساتھ ہم آہنگی ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کر کے Assaam Accord  کے دفاع کیا۔ گویا کہ ابھی سپریم کورٹ میں ایک طرف تقریبا 14تنظیمیں ہیں جو لاکھوں مسلمانوں کی شہریت کو چھیننا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف دفاع میں صرف تین تنظیمیں ہیں (۱) جمعیۃ علماء ہند(حسب ہدایت مولانا محمود مدنی صاحب)(۲) آل آسام مایناریٹی اسٹو ڈینٹس(آمسو) (۳) سیٹیزن رائٹ پریزرویشن کمیٹی (سی آر پی سی) نامی تنظیم ہے جو  Assam Accord کے مطابق ۵۲، مارچ  ۱۷۹۱ کو بنیاد بنا کر ہندوستان کے لاکھوں حقیقی شہریوں کو انصاف دلانے کی جد و جہد کے لیے 2009  سے ہی سپریم کورٹ میں مقدمات لڑ رہی ہے،جس کے لئے ملک کے سینئر وکلا ء کی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ہے۔واضح رہے کہ آسام میں شہریت سے متعلق یہ مقدمات پہلے سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے پاس تھا جس نے Assam Accord سے متعلق ۳۱، سوالات کئے تھے اور اس کا دفاع کر نے والے فریقوں کو اس کا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔بعدمیں یہ سارے مقدمات سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل ایک آئینی بنچ کے حوالہ کر دیا گیا، چنانچہ یکم، مئی ۷۱۰۲ کو  جمعیۃ علماء ہند نے اپنے سینئر وکلا ء کی ٹیم کے ذریعہ تیار شدہ ان ۳۱، سوالات کے جوابات اور ضروری دستاویز سپریم کورٹ میں آئینی بنچ کے سامنے جمع کر دیا۔ اب ان مقدمات کی فائنل سماعت کا آغازسپریم کورٹ کی آئینی بنچ  ۸، مئی ۷۱۰۲ سے کریگی جس پر آنے والا فیصلہ آسام کے لاکھوں لوگوں کی شہریت پر اثر انداز ہوگا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بر محل ہوگا کہ آسام کی ترون گگوئی سرکار اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے محض اپنے سیاسی مفاد کی خاطر اس کو ٹال مٹول کرتی رہی۔ سابقہ ریاستی سرکاروں کے  ذریعہ آسام کے مسلمانوں کے استحصال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے آسام میں ”بارڈر پولس ڈیپارٹمنٹ“ بناکر اسے اس بات کا مکمل اختیا دے دیا کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دیکر گرفتار کر سکتا ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ اس ڈپارٹمنٹ کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔مزید بر آں اس ڈپارٹمنٹ کو آ ر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر رکھکر اس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعہ کئے جانے والے ظلم و ستم پر پر دہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کا کوئی محکمہ نہیں ہے۔۔ اس کے علاوہ آسام کی پچھلی گگوئی سرکار بی جے پی کی مر کزی حکومت کے ذریعہ 31دسمبر 2014 تک بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان وغیرہ سے آنے والے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت دئیے جانے کے فیصلہ کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے جس کے لئے مرکزی سرکار پارلیمنٹ میں بل بھی پیش کر چکی ہے۔انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک طرف تو حکومت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر چکی ہے جس کے پاس ہوتے ہی لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت مل جائے گی، جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے لاکھوں genuine citizens کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہندوستانی شہریت سے محروم کرنے کی تیاری چل رہی ہے، انصاف کا یہ دوہرا پیمانہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے انتہائی خطر ناک ہے۔ جمعےۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر اس تقسیم کے سخت خلاف ہے اور اسے ملک اوردستور سے کھلواڑ قراردیتی ہے۔اسی طرح گوہاٹی ہائی کورٹ کے ۸۲،فروری ۷۱۰۲ کو دئیے گئے پنچایت سکریٹری کے ذریعہ جاری شدہ سرٹیفیکٹ کو کالعدم قرارد دینے والے فیصلہ کے خلاف بھی جمعیۃ علما ء ہند کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت کاآغازہوگیاجس سے تقریبا  ۸۴ لاکھ لوگوں خاص کر عورتوں کی شہریت متاثر ہو رہی ہے۔ اس کیس میں بھی جمعیۃ کی طرف سے سینیئر وکلاء کی ٹیم پیروی کر رہی ہے۔ عدالت عظمی نے اس سلسلہ میں آسام کے قومی رجسٹر برائے  شہریت کے کو آرڈینیٹر کو  ۴، مئی ۷۱۰۲ کوہونے والی سماعت میں جواب داخل کرنے کاحکم دیا ہے۔جمعیۃ کے ذمہ دار ان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کوروہنگیامسلمانوں کی طرح بے حیثیت کر نے کی سازش چل رہی ہے تا کہ ان سے ہندوستانی شہری ہونے کے حقوق چھین لئے جائیں اور ان سے ووٹنگ کا حق بھی سلب کر لیا جائے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمد عثمان منصور پوری اورجنرل سکریٹری مولانا سیدمحمود مدنی اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدرمولانا بدرالدین اجمل کی لیڈر شپ میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران ان تمام حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انصاف کی جیت کے لئے ہر سطح پر کوشش کر رہے ہیں اور انشاء اللہ عدالتِ عظمیٰ سے انصاف ملنے کی امیدہے۔


Share: