نئی دہلی ، 11/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا کی قیادت میں 10 مارچ کو جنتر منتر پر خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی جامہ پہنانے کے مطالبے کے تحت کیا گیا۔ الکا لامبا نے زور دے کر کہا کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک خواتین کو ان کا حق نہیں ملتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
الکا لامبا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کا اجلاس آج سے شروع ہو گیا ہے۔ مہیلا کانگریس نے گزشتہ سال بھی جنتر منتر پر 33 فیصد خاتون ریزرویشن کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ طویل جدوجہد کے بعد یہ بل (خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن) پارلیمنٹ سے پاس ہوا ہے۔ میں پی ایم مودی سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اسے نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ہمیں روکنے کے لیے پورے علاقے کی قلعہ بندی کر دی گئی، کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جنھیں چوٹیں آئی ہیں۔‘‘
الکا لامبا نے عزم ظاہر کیا کہ ایک طرف پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس چلے گا اور دوسری طرف مہیلا کانگریس خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کے مقصد سے سڑک پر احتجاج کرتی رہے گی۔ لوک سبھا میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی اس ایشو پر آواز اٹھائیں گے، جبکہ راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی اس مطالبہ کے حق میں آواز بلند کریں گے۔
اس درمیان الکا لامبا نے خواتین کی سیکورٹی کا ایشو بھی اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں آج خواتین غیر محفوظ ہیں۔ گجرات میں بی جے پی رکن اسمبلی نے دلت بیٹی کے ساتھ عصمت دری کی، لیکن ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی۔ ایسا ہی دہلی میں برج بھوشن شرن معاملے میں ہوا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ایف آئی آر ہوئی، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اس سے قبل کانگریس لیڈر الکا لامبا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر احتجاجی مظاہرہ کی کچھ تصویروں کو شیئر کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ ’’خواتین کا احترام ملک کا وقار۔ آج خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا اور بی جے پی کی خاتون مخالف سیاست کے خلاف مہیلا کانگریس کی ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنتر منتر پر دھرنا دیا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ ’’نصف آبادی کا حق انھیں دلا کر رہیں گے۔ مہیلا کانگریس کی یہ مہم بہنوں کو ان کا حق ملنے تک جاری رہے گی۔‘‘