نئی دہلی، 3/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) تمام تر مخالفت، ناراضگی اور تشویش کے باوجود، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان وقف (ترمیمی) بل 2025ء لوک سبھا میں بحث کے لیے پیش کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل محض جائیداد کے انتظام سے متعلق ہے اور اس سے کسی بھی مذہب کے مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی ہے۔ رجیجو نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسی مذہبی کام میں دخل دینا نہیں ہے، بلکہ یہ بل وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے، جو متولیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ میں کیرالہ اور الہ آباد ہائی کورٹس سمیت سپریم کورٹ کے تین فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان فیصلوں میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلم وقف اور ہندو مندروں کی جائیدادوں کا انتظام ایک سیکولر معاملہ ہے اور اسی دائرے میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر یہ ترمیمی بل نہ لایا جاتا تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف املاک میں شامل ہو سکتی تھی، کیونکہ 2013ء میں دہلی وقف بورڈ نے پارلیمنٹ کی عمارت کو وقف جائیداد قرار دے دیا تھا، جسے اس وقت کی یو پی اے حکومت نے ڈی نوٹیفائی کیا تھا۔ رجیجو نے کہا کہ حکومت نے وسیع مشاورت کے بعد یہ بل ایوان میں پیش کیا ہے اور اس پر تفصیلی بحث کے لیے 8 گھنٹے مقرر کیے گئے تھے، جو خبر لکھے جانے تک 2 گھنٹے بڑھا دیے گئے تھے، یعنی رات 10 بجے تک بحث جاری رہنے کا امکان تھا۔
کرن رجیجو کے خطاب کے بعد کانگریس کی جانب سے گورو گوگوئی نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بھی چاہتی ہے کہ قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں لیکن حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے ۔ حکومت وقف بل کے حوالے سے کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ کہہ کر کنفیوژن پھیلا رہی ہے کہ بل پر بڑے پیمانے پر بحث ہو چکی ہے جبکہ حکومت اس پر من مانی کرتی رہی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ بل اقلیتی امور کی وزارت نے نہیں بلکہ کسی اور وزارت نے تیار کیا ہے اس لئے اس میں اقلیتوں کے مفادات کے لئے دفعات نہیں رکھی گئی ہیں ۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے خلاف اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وقف املاک پر سیاست کر رہی ہے، جبکہ یہ مسلم کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کلیان بنرجی نے۱۹۹۵ءکے وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے۔
شیو سینا (ادھو) کے کن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ جو لوگ پہلے کہتے تھے کہ اگر ہم بٹیں گے تو کٹیں گے، اب غریب مسلمانوں کو سوغات مودی دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اگر آپ بانٹیں گے تو آپ بچیں گے۔یہ بہت حیران کن ہے۔ دراصل بہار کے انتخابات آنے والے ہیں اس لئے یہ سب ہو رہا ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں غیر مسلم ممبران کو شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں غیرہندوؤں سے ہندو مندروں میں داخلے کی درخواست کی جائے گی۔ ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے۔ یہ بل کس وجہ سے لایا گیا ہے واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کے ایم پی نیلیش گیان دیو لنکے نے کہا کہ پہلے وقف بورڈ میں انتخاب جمہوری طریقے سے ہوتا تھا لیکن اب افسران انتخاب کریں گے جو کہ غلط ہے۔ حکومت وقف اراضی کو تجاوزات قرار دے کر قبضہ کرنے جا رہی ہے۔