ملکانگیری، 9 / دسمبر (ایس او نیوز) ریاست اوڈیشہ کے ملکانگیری میں دو دن سے جاری ہجومی تشدد قابو میں نہیں آیا ہے جس کے بعد وہاں کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ انٹرنیٹ سہولت بھی بند کر دی گئی ہے ۔
ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق ایم وی 26 علاقے میں بنگالیوں کو نشانہ بنا کر گھروں کو لوٹنے اور جلاںے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے وہاں مقیم بنگالی گاوں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ فساد اس وقت شروع ہوا جب کویا قبیلے کی ایک خاتون کا قتل ہوا اور جمعرات کے دن اس کی لاش پوٹیرو ندی سے بازیافت ہوئی تھی ۔
قبائلیوں کا الزام ہے کہ اس قتل میں وہاں بسنے والے بنگالیوں کا ہاتھ ہے ۔ اسی بنیاد پر انہوں نے اتوار کے دن ایم وی 26 نامی بستی کو نشانہ بنایا اور منظم حملے شروع کیے ۔ جبکہ پولیس نے ایک سبھا رنجن مونڈل نامی ایک شخص کو اس معاملے میں گرفتار کر لیا ہے ۔ تیر اور کمانوں کے علاوہ کلہاڑیوں اور درانتیوں سے لیس قبائلیوں نے اس بستی پر زبردست جارحانہ حملے شروع کیے اور دکانوں، مکانوں کو آگ لگاتے ہوئے بڑا بھاری نقصان پہنچایا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں بھی قبائلیوں نے آدی واسیوں کی حمایت میں نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے شدید حملے جاری رکھے نقصان کا تخمینہ کیا ہو سکتا ہے اس کے بارے میں افسران نے فی الحال اپنی زبان بند رکھی ہے ۔