ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ 7 سال سے خالی، منیکم ٹیگور کی سخت تنقید؛ اوم برلا کے خلاف تحریک پر 9 مارچ کو بحث

ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ 7 سال سے خالی، منیکم ٹیگور کی سخت تنقید؛ اوم برلا کے خلاف تحریک پر 9 مارچ کو بحث

Mon, 16 Feb 2026 11:56:44    S O News
ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ 7 سال سے خالی، منیکم ٹیگور کی سخت تنقید؛ اوم برلا کے خلاف تحریک پر 9 مارچ کو بحث

چنئی ، 16/ فروری (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیکم ٹیگور نے کہا کہ ضابطےکے پہلو سے یہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی نہیں ہے بلکہ پارلیمانی جمہوریت پر ضرب کے مترادف ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ روایت کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ عام طور پر اپوزیشن کو دیا جاتا ہے جو جمہوری اصول کے احترام پر مبنی ہے، اسپیکرکےخلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث ۹؍ مارچ کو ہوگی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیکم ٹیگور نے وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں لوک سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ۷؍سال سے خالی رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضابطےکے پہلو سے یہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی نہیں ہے بلکہ پارلیمانی جمہوریت پر ضرب کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئین کے آرٹیکل ۹۳؍ کے مطابق ایوان کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں کا انتخاب کرنا ہوگا اور اس عہدے کو خالی چھوڑنا اس تقاضے کے خلاف ہے۔

منیکم ٹیگور نے وضاحت کی کہ روایت کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ عام طور پر اپوزیشن کو دیا جاتا ہے۔ یہ عمل پارلیمانی کارروائی میں توازن، غیر جانبداری اور جمہوری اصولوں کے احترام کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اب جبکہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے و الی ہے، حکومت جان بوجھ کر ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ خالی رکھ رہی ہے۔

کانگریس ایم پی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو اس کا جائز مقام نہ دینے سے ادارہ ہی کمزور ہوتا ہے۔ اب جب سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے تو ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ کیا یہی طرز حکمرانی ہے؟ انہوں نے پوچھاکہ کیاحکومت کو احتساب کا خوف ہے؟ اپوزیشن کو دبانے کیلئے آئینی عہدوں کو خالی رکھنابہترحکمرانی کی مثال نہیں ہے۔ یہ عدم تحفظ ہے۔ جمہوریت کسی ایک فرد یا جماعت سے نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق آئین کے احترام سے ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتمادپیش کی ہےاوران پر سنگین جانبداری اور اپوزیشن کے لیڈروں کو بولنے کا موقع نہ دینے کاالزام لگایا ہے۔  واضح رہےکہ بجٹ اجلاس پہلامرحلہ مکمل ہوچکا ہے اوردوسرا مرحلہ اب ۹؍ مارچ سے شروع ہوگا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کے مطابق اسی دن اسپیکر اوم برلا کےخلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی روز یہ موضوع اٹھانے کا اصول ہے، بحث کے بعد ووٹنگ ہوگی۔

آئین نے ایسی صورت حال کا انتظام کیا ہے۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل۹۵(۲)کے تحت، اگر لوک سبھا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں کے عہدے خالی ہیں تو صدر یہ ذمہ داری لوک سبھا کے ایک رکن کو سونپ سکتے ہیں۔ اس ممبر کو عام طور پر پرو ٹیم اسپیکر کہا جاتا ہے۔

پروٹیم اسپیکر صدر کی طرف سے مقرر ایک رکن ہے۔ روایتی طور پر یہ ذمہ داری لوک سبھا کے سب سے سینئر ممبر کو دی جاتی ہے۔ پروٹیم اسپیکر کا کردار نئے ممبران پارلیمنٹ کو حلف دلانا اور نئی لوک سبھا کے پہلے اجلاس کی کارروائی چلانا ہے۔ جب تک نیا اسپیکر منتخب نہیں ہو جاتا وہ ایوان کی کارروائی کی صدارت کرتا ہے۔

اگر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کسی سیشن کے دوران عارضی طور پر غیر حاضر ہوں تو اسپیکر کے نامزد کردہ پینل آف چیئرپرسن کا رکن بھی ایوان کی صدارت کر سکتا ہے۔ یہ پینل لوک سبھا کے رول۹؍ کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ انتظام عام طور پر عارضی غیر حاضری کیلئے ہوتا ہے، طویل آئینی تنازعات کی صورت میں نہیں۔ جو رکن ایوان کی صدارت کرتا ہے، چاہے وہ پروٹیم اسپیکر ہو یا پینل چیئرپرسن، اس کے پاس کارروائی چلانے کے تمام طریقہ کار کے اختیارات ہوتے ہیں۔ وہ قواعد کے مطابق بحث کی اجازت دیتے ہیں، نظم و ضبط برقرار رکھتے ہیں۔ 


Share: