ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں ہنگامہ آرائی؛ ہیم کنڈ صاحب جانے والے سکھ یاتریوں اور مقامی افراد کے درمیان تصادم، بدری ناتھ ہائی وے پر احتجاج

اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں ہنگامہ آرائی؛ ہیم کنڈ صاحب جانے والے سکھ یاتریوں اور مقامی افراد کے درمیان تصادم، بدری ناتھ ہائی وے پر احتجاج

Tue, 16 Jun 2026 18:59:45    S O News

دہرادون/چمولی ، 16/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) اتراکھنڈ کے ضلع چمولی کے کرن پریاگ قصبے میں منگل 16 جون کو ہیم کنڈ صاحب یاترا کے دوران سکھ یاتریوں اور مقامی باشندوں کے درمیان ہونے والی تکرار اچانک پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے بدری ناتھ نیشنل ہائی وے پر احتجاجی دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیم کنڈ صاحب جانے والے سکھ یاتریوں کے ایک گروپ اور مقامی افراد کے درمیان کرن پریاگ بازار میں کسی بات پر بحث و تکرار شروع ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے دونوں فریق آمنے سامنے آگئے اور لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ جھڑپ شروع ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بعض افراد کو تلواریں لہراتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی جھگڑے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ کرن پریاگ کے سرکل آفیسر تریویندر سنگھ رانا کے حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک سکھ یاتری پر مقامی افراد کے خلاف تلوار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک مقامی ہوٹل مالک بھی شامل بتایا جا رہا ہے جسے شدید زخمی حالت میں اعلیٰ طبی مرکز منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد مقامی تاجروں اور شہریوں میں شدید غصہ پایا گیا۔ احتجاج کے طور پر بدری ناتھ نیشنل ہائی وے کو بند کر دیا گیا جس کے باعث بدری ناتھ دھام اور ہیم کنڈ صاحب جانے والے ہزاروں یاتریوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے بعد حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی گئی۔

انتظامیہ نے عوام سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج، وائرل ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ جھڑپ کی اصل وجہ اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ہیم کنڈ صاحب یاترا کے راستے پر ماضی میں بھی بعض ناخوشگوار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ برس جوشی مٹھ کے قریب نِہنگ یاتریوں اور مقامی افراد کے درمیان تصادم کے بعد متعدد افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد انتظامیہ نے یاترا کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔


Share: