نئی دہلی ، 16/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنائی جائے گی۔ اس کا اثر بھی نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ دراصل مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لا رہے ہندوستانی ٹینکر ’دشا‘ نے بحفاظت آبنائے ہرمز پار کر لیا ہے۔ ہندوستان آ رہے 34 دیگر جہازوں کے بھی جلد آبنائے ہرمز پار کرنے کی امید ہے۔ یہ جہاز مغربی ایشیا کے بحران کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے 34 جہازوں میں سے 16 جہاز ایسے ہیں جو کھاد لے کر ہندوستان آ رہے ہیں۔ ان 16 جہازوں میں 8 پر یوریا، 4 پر ڈائی-امونیم فاسفیٹ، 3 پر سلفر اور ایک پر امونیا لدا ہوا ہے۔ اگر معاہدے کے تحت سب کچھ صحیح رہتا ہے اور آبنائے ہرمز کھلتا ہے تو جلد ہی ہندوستان کے کروڑوں کسانوں کو کھیتی کے لیے کھاد مل سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی حالات معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ مغربی ایشیا کی کئی اہم ریفائنریز اور گیس پلانٹس حملوں میں بری طرح تباہ ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ ختم ہونے کے بعد بھی سپلائی معمول پر آنے میں کئی مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ قطر کا ’راس لفان‘ پلانٹ حملے میں بری طرح تباہ ہوا ہے اور وہاں سے ایندھن کی سپلائی بحال ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ ہندوستان کا اس گیس پلانٹ سے ایل پی جی سپلائی کا معاہدہ ہے، ایسے میں حالات معمول پر آنے میں ابھی وقت لگے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اپنی ضرورت کا 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس میں سے تقریباً نصف حصہ مغربی ایشیا سے ہی سپلائی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان کی کل درآمد کی 60 فیصد سے زیادہ ایل این جی بھی آبنائے ہرمز سے گزر کر ہندوستان آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث آبنائے ہرمز بند ہونے سے ہندوستان کو ہونے والی تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو گئی تھی۔ بہرحال، آبنائے ہرمز کو پار کرنے والا ’دشا‘ ٹینکر 18 جون تک ہندوستان آ سکتا ہے اور اس پر 62370 ٹن ایل این جی ہے۔