لکھنؤ، 15/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی ) اتر پردیش میں جمعہ کے روز سخت سیکورٹی انتظامات کے دوران ہولی کا تہوار پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ بعض جگہوں پر معمولی تناو کو چھوڑ کر ریاست کے تمام حصوں میں تہوار کے جشن کے دوران امن و امان کے ساتھ جشن کا سماں دیکھا گیا۔
ہولی تہوار کے دوران اُترپردیش کے شاہجہانپور میں مشہور ’لاٹ صاحب کا جلوس‘ نکلنے کے دوران مُبینہ طور پر پولس پر جوتے پھینکے جانے کی واردات پیش آئی جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جبکہ اناؤ میں بھی ہولی کے جلوس کے دوران حالات کشیدہ ہو نے کی اطلاع ملی، جہاں کچھ شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کر دیا، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
شاہجہاں پور سے ملی اطلاع کے مطابق ہولی کے دوران نکالے جانے والے سینکڑوں سال قدیم ’لاٹ صاحب کے جلوس‘ میں اس وقت ہنگامہ شروع ہو گیا جب ہولی کھیل رہے لوگوں نے مبینہ طور پر پولیس پر جوتوں اور چپلوں کی بارش کر دی۔ پولیس پر اینٹ اور پتھر پھینکے جانے کی بھی خبریں موصول ہوئیں، جس کے دفاع میں پولیس نے ہنگامہ کرنے والوں پر لاٹھیاں برسائیں۔ پولیس کی لاٹھیاں پڑتے ہی شرپسند نوجوان فرار ہو گئے۔ بعد میں پولیس نے حالات کو قابو میں کرلیا۔
دوسری طرف اناؤ میں ہولی جلوس کے دورانشدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ شراب نوشی کی حالت میں کچھ نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔شرپسند عناصر کو قابو میں کرنے کے لیے پولس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ اس لاٹھی چارج میں کئی لوگ زخمی بھی ہو گئے۔پولیس کی کارروائی کے خلاف کئی افراد نے بعد میں دھرنا دیا۔ اس کی جانکاری ملتے ہی انتظامیہ کے افسران جائے وقوع پر پہنچے۔ اے ایس پی، سی او اور ایس ڈی ایم نے دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو سمجھانا شروع کیا اور علاقے میں اضافی پولیس جوان بھی تعینات کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملہ ضلع کے بانگرمئو تھانہ کے تحت گنج مراد آباد قصبہ کا ہے۔ یہاں ہولی پر پھاگ جلوس نکالا جاتا ہے۔ رنگ میں ڈوبے لوگ پھاگ گاتے ہوئے چلتے ہیں اور ہولی کا جشن مناتے ہیں۔ پھاگ جلوس میں کچھ قابل اعتراض گانوں پر تنازعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جلوس جب اپنی منزل سے واپس ہوا تو اچانک شراب کے نشے میں ڈوبے کچھ نوجوانوں نے چھیڑ چھاڑ اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ انھیں روکنے کے لیے پولیس نے جب ہلکی طاقت کا استعمال کیا تو دوسری طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا۔
پتھراؤ کی وجہ سے کم از کم 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنھیں اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے ہنگامہ اور پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں کو کھدیڑنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد بھیڑ منتشر ہو گئی۔ پولیس لاٹھی چارج میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور الزام ہے کہ پولیس نے گھر میں گھس کر لوگوں کو باہر کھینچا اور پٹائی کی۔ زخمیوں میں خواتین بھی شامل بتائی جا رہی ہیں۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی ٹولی شراب پی کر ہنگامہ کر رہی تھی، اس لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ اس پورے واقعہ سے ناراض کچھ لوگ دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔