نئی دہلی، 11/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر پیر کے روز لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ریمارکس پر ڈی ایم کے ارکان نے سخت احتجاج کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی تقریباً ۳۰ منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑی۔ کانگریس نے بھی اپنی اتحادی جماعت ڈی ایم کے کے موقف کی حمایت کی اور احتجاج میں شریک رہی۔ دراصل، ایک سوال کے جواب میں دھرمیندر پردھان نے تمل ناڈو حکومت کو ’بے ایمان‘ قرار دیتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا کہ وہ طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔
مرکزی وزیر کے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ڈی ایم کے اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نےاحتجاج کرنے والے اراکین سے کہا کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس چلےجائیں اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلنے دیں تاہم ڈی ایم کے اراکین نے ان کی اپیل کو نظر انداز کیا اور اپنا احتجاج جاری رکھا۔
پیر کی صبح لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کی یہ کارروائی معمول کے مطابق وقفہ سوالات سے شروع ہوئی۔ اس موقع پر ’ڈی ایم کے‘ کی رکن پارلیمان ٹی سمتی کے ایک سوال پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے جواب سے ایوان کا ماحول خراب ہوگیا۔ ڈی ایم کے کے ساتھ ہی دیگر جماعتوں نے بھی پردھان کے جواب کو قابل اعتراض قرار دیا۔ اپنے سوال میں رکن پارلیمان ٹی سمتی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی’پی ایم شری‘ اسکیم کے تحت تمل ناڈو کو مختص کئے جانے والے۲؍ ہزار کروڑ روپے کے مرکزی فنڈز کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے دوسری ریاستوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ `میں وزیر تعلیم سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا اسکولی طلبہ کی تعلیم کیلئے مختص کی گئی رقم کو ریاست کے خلاف انتقامی کارروائی کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے؟ سمتی نے اپنے سوال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں مرکزی حکومت سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ پارلیمنٹ کو اس بات کی یقین دہانی کرائے گی کہ کسی بھی ریاست کو ایسی پالیسی کو قبول نہ کرنے پر فنڈز میں کٹوتی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو قانون کے تحت نافذ نہیں ہو سکتی؟‘‘
اس سوال کے جواب میں وزیرتعلیم نے کہا کہ ’’ایک وقت تھا جب تمل ناڈو حکومت، مرکزی حکومت کے ساتھ ایم او یو (این ای پی پر) پر دستخط کرنے کیلئے تیار تھی۔ تمل ناڈو کے وزیر تعلیم کے ساتھ کچھ اراکین ہمارے پاس آئے تھے اور انہوں نے اتفاق کیا تھا۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ کرناٹک، ہماچل پردیش اور پنجاب جیسی غیر بی جے پی حکومت والی ریاستیں بھی ’پی ایم شری‘ اسکیم کو قبول کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ ہم تمل ناڈو کو مالی امداد دے رہے ہیں، لیکن وہ اس کا استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ ڈی ایم کے کے لوگ اس تعلق سے ایماندار نہیں ہیں، وہ تمل ناڈو کے طلبہ کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر سیاست کر رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ وہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں اور غیر جمہوری اور غیر مہذب سلوک کر رہے ہیں۔ ‘‘
پردھان نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق’’ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ این ای پی کو قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں کچھ لوگ روک رہے ہیں جو مستقبل میں وزیر اعلیٰ بننا چاہتےہیں۔ وزیر اعلیٰ (اسٹالن) طلبہ کے تئیں ایماندار نہیں ہیں۔
وزیرتعلیم کے اس بیان پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ان ہنگامہ آرائیوں کے درمیان اسپیکر برلا نے چند منٹوں کیلئے وقفہ سوال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ڈی ایم کے کے اراکین سے کہا کہ’’ آپ کے رکن کو سوال پوچھنے کا موقع دیا گیا، اب آپ وزیر کا جواب سنیں، اس طرح ہنگامہ آرائی کا طریقہ درست نہیں ہے، یہ ایک غلط روایت ہے۔ پارلیمنٹ کے ضابطے کی خلاف ورزی نہ کریں اور اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ ‘‘ا سپیکر نے کہا کہ وقفہ سوال کا وقت سب سے اہم ہوتا ہے۔ آپ سب اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کو چلنے دیں۔ ایوان آپ کا ہے اور آج کی کارروائی جس جوش اور ولولے کے ساتھ شروع ہوئی ہے، اسے جاری رہنے دیں۔ ‘‘اسپیکر کی اس اپیل کا اراکین پر جب کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی تقریباً آدھے گھنٹے کیلئے دوپہر۱۲؍ بجے تک ملتوی کر دی۔
دوپہر۱۲؍ بجے جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسپیکر نے ڈی ایم کے کی رکن کنی موزی سے اپنے خیالات پیش کرنے کو کہا۔ کنی موزی نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ مرکزی وزیر نے تمل ناڈو کے اراکین، وہاں کی حکومت اور ریاست کے لوگوں کے بارے میں غلط الفاظ استعمال کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہ لسانی پالیسی تمل ناڈوکیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے بعد دھرمیندرپردھان نے کہا کہ میری پیاری بہن نے ابھی جو کہا ہے اس کے بارے میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کو میری باتوں سے تکلیف ہوئی ہے تو میں ان الفاظ کو واپس لیتا ہوں۔ اس کے بعد برلا نے کہا کہ میں نے اس لفظ کو ریکارڈ سے ہٹا دیا ہے۔ بعد میں ڈی ایم کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔