ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چھتیس گڑھ میں تین ہزار ٹیچروں کو نوکریوں سے نکالے جانے پر انوکھا احتجاج؛ لیڈیس ٹیچرس سڑکوں پر لیٹ کر کرتی پائی گئی احتجاجی مظاہرہ

چھتیس گڑھ میں تین ہزار ٹیچروں کو نوکریوں سے نکالے جانے پر انوکھا احتجاج؛ لیڈیس ٹیچرس سڑکوں پر لیٹ کر کرتی پائی گئی احتجاجی مظاہرہ

Tue, 14 Jan 2025 13:38:53    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 14/جنوری (ایس او نیوز ) چھتیس گڑھ میں مُبینہ طور پر3 ہزار ٹیچروں کو نوکریوں سے نکالے جانے  کے بعد  ٹیچروں نے سڑک پر لیٹتے ہوئے اور سڑک پراپنے آپ کو گھیسٹتے ہوئے  انوکھا احتجاج کیا، جس پر کانگریس نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئےالزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نوجوانوں کو "بے روزگاری کے دلدل" میں دھکیل رہی ہے۔

احتجاج کو لے کر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا 'ایکس' پر شیئر کیا ہے، جس میں احتجاج کرتے ہوئے ٹیچروں کو سڑک پر لیٹے لیٹے آگے بڑھتے ہوئے  دیکھا گیا ہے۔

کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا، مودی حکومت اور بی جے پی ہی نوجوانوں کو بے روزگاری کے دلدل میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں۔ چھتیس گڑھ کا یہ دل دہلا دینے والا منظر دیکھیں، جہاں لیڈیس ٹیچرس سخت سردی میں اپنی نوکریوں کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔آگے لکھا کہ  بی جے پی حکومت نے 3,000 اساتذہ کو برطرف کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ، کھڑگے نے بی جے پی حکومت والی ریاست ہریانہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "امتحانات کے پرچوں کے افشاء" میں نمبر ون بن چکی ہے، جس کی تازہ مثال روہتک میں ایم بی بی ایس امتحان کا پرچہ افشاء ہونا ہے۔

کانگریس صدر نے مزید کہا، "ڈبل انجن حکومت نوجوانوں پر دوہری طاقت سے وار کر رہی ہے۔ پہلا وار — مافیا کے ساتھ حکومت کی ملی بھگت سے امتحانات کے پرچے افشاء ہوتے ہیں اور حکومت کی کوئی جوابدہی نہیں! دوسرا وار — بی جے پی حکومت والی  ریاستوں میں نوکریاں دستیاب نہیں، مخصوص نشستیں خالی ہیں، اور نوجوانوں کے خواب چکناچور ہو رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں پر بی جے پی کی سب سے بڑی لعنت بے روزگاری ہے۔


Share: