الال ،4 / اکتوبر (ایس او نیوز) الال میں شاردا اتسوا کے جلوس کے دوران پولیس کی جانب سے لاوڈ اسپیکر بند کروانے کے خلاف مقامی لوگوں نے جم کر احتجاج کیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ شاردا اتسوا کے حوالے سے جب دیر رات کو جھانکی کے ساتھ جلوس نکالا گیا تھا تو رات ایک بجے الال ابکّا سرکل پر پولیس انسپکٹر نے پولیس کی طرف سے جاری کی گئی رہنما ہدایات کی روشنی منتظمین کو لاوڈ اسپیکر کی آواز بند کرنے کی ہدایت دی ۔ جب وہ لوگ نہیں مانے تو پھر پولیس نے خود ہی آگے بڑھ کر لاوڈ اسپیکر بند کر دیا ۔
اس موقع پر مقامی لوگوں کی بھیڑ وہاں لگ گئی اور وہ لوگ پولیس کے ساتھ زبانی تکرار میں الجھ گئے ۔ تب پولیس نے ہنگامہ کر رہے رکشیت، اشیت اور اشوت نامی تین نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لیا ۔ اس سے ناراض بہت سارے مقامی افراد بشمول خواتین الال پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرنے لگے اور شاردا کی مورتی والا جلوس آگے بڑھانے سے انکار کرتے ہوئے تحویل میں لیے گئے نوجوانوں کو رہا کرنے کی ضد پر اڑ گئے ۔
جب مقامی پولیس نے اپنے اعلیٰ افسران کو اس صورتحال سے آگاہ کیا تو ڈی سی پی متھن اور اے سی پی وجیا کرانتی موقع پر پہنچ گئے اور احتجاجی مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ پھر بی جے پی ضلع صدر ستیش کمپالا اور دیگر لیڈران پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور حراست میں لیے گئےتینوں نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ جب پولیس نے ان کی مانگ پوری کرنے سے انکار کیا تو وہ لوگ پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی شروع کی ۔
بالآخر صبح ساڑھے چار بجے کے قریب پولیس نے تین میں سے دو نوجوانوں کو رہا کر دیا جبکہ کئی پرانے معاملوں کے ملزم رکشیت کو پولیس کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔