ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل انجمن کے دو اساتذہ کو کوئمپو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی منظوری؛ حافظ کرناٹکی اور جنوبی ہند کے سفرنامہ نگاروں پر تحقیقی مقالے منظور

بھٹکل انجمن کے دو اساتذہ کو کوئمپو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی منظوری؛ حافظ کرناٹکی اور جنوبی ہند کے سفرنامہ نگاروں پر تحقیقی مقالے منظور

Mon, 20 Oct 2025 20:36:16    S O News
بھٹکل انجمن کے دو اساتذہ کو کوئمپو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی منظوری؛ حافظ کرناٹکی اور جنوبی ہند کے سفرنامہ نگاروں پر تحقیقی مقالے منظور

بھٹکل، 20 اکتوبر (ایس او نیوز): انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کے دو اساتذہ کے تحقیقی مقالوں کو شموگہ کی کوئمپو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو نے ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کے لیے منظور کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول بھٹکل میں اُردو استاد کے طور پر خدمات انجام دینے والے مولوی عبدالحفیظ خان ابن محبوب خان کا تحقیقی مقالہ بعنوان ’’جنوبی ہند کے منتخب اردو سفرنامہ نگار‘‘ ڈاکٹریٹ کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ اسی اسکول میں سوشیل سائنس کے استاد عبدالفتح ابن محمد سائب باپو کا مقالہ ’’حافظ کرناٹکی: ذکر، فکر اور فن‘‘ بھی ڈاکٹریٹ کے لیے منظور کرلیا گیا ہے۔ کوئمپو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی جانب سے دونوں محققین کو عنقریب پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی جائیں گی۔

شموگہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے چیئرمین اور سہیادری آرٹس کالج کے پرنسپل پروفیسر سراج احمد نے کہا کہ ہمارے شعبہ کے دو اسکالرز نے نہایت اہم موضوعات پر گہرائی سے تحقیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً اردو ادب میں شمالی ہند کے ادباء و شعراء کا ذکر زیادہ ہوتا ہے، لیکن عبدالفتح کا حافظ کرناٹکی پر تحقیقی کام کرناٹک کے قلمکاروں کو عالمی سطح پر شناخت دلانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

تحقیقی مقالوں کے نگران ڈاکٹر ثناءاللہ نے بتایا کہ دونوں محققین نے زبانی امتحان (وائیوا) میں شاندار کارکردگی پیش کی۔ امتحان حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی پروفیسر عرشیہ جبیں اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پروفیسر محمد نسیم الدین فرید نے لیا۔ ڈاکٹر ثناءاللہ نے کہا کہ حافظ کرناٹکی کی سیاسی، ادبی، سماجی اور تعلیمی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اور ان پر تحقیق ایک اہم علمی کارنامہ ہے۔ اگرچہ بعض وجوہات کی بنا پر اس کام میں تاخیر ہوئی، تاہم آخرکار یہ تحقیقی سفر کامیابی سے مکمل ہوا۔

خود حافظ کرناٹکی نے اس موقع پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ضلع میں ان کی خدمات پر تحقیقی کام ہونا باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل پٹنہ یونیورسٹی میں بھی ان پر تحقیق ہوئی تھی، لیکن وہاں بعض اساتذہ کا خیال تھا کہ زندہ افراد پر تحقیق نہیں کی جاتی۔ تاہم عبدالفتح نے ڈاکٹر ثناءاللہ کی رہنمائی میں یہ کام انجام دے کر ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

وائی وی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد نثار احمد نے کہا کہ حافظ کرناٹکی بچوں کے ادب کے واحد شاعر ہیں جنہوں نے ادب کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے، اور عبدالفتح کا مقالہ اشاعت کے لائق ہے۔ امتحان لینے والے پروفیسر نسیم الدین فرید نے کہا کہ عبدالفتح کا مقالہ نہایت باریک بینی سے لکھا گیا ہے اور حافظ کرناٹکی کی نظم و نثر دونوں میں ان کی گہری بصیرت جھلکتی ہے۔ ادیب ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ شعبۂ اردو نے محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ معیار کا تحقیقی کام انجام دیا ہے۔ ان کے مطابق، حافظ کرناٹکی کی شاعری اور عملی زندگی کی ہم آہنگی انہیں اردو دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالفتح کا مقالہ زبان و بیان کے اعتبار سے اشاعت کے قابل ہے، جب کہ عبدالحفیظ کا مقالہ جنوبی ہند کے اردو سفرناموں پر ایک ایسی معیاری تصنیف ثابت ہو سکتا ہے جو دیگر تحقیقی کاموں سے ممتاز ہوگی۔

ریسرچ اسکالر مولوی عبدالحفیظ نے بتایا کہ جنوبی ہند کے سفرناموں پر اب تک تحقیق بہت کم ہوئی ہے، جب کہ شمالی ہند میں اس پر خاصا کام ہوا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے اس موضوع کو منتخب کیا۔ عبدالفتح نے کہا کہ حافظ کرناٹکی پر تحقیقی کام کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے، وہ بچوں کے شاعر کے طور پر معروف ہیں اور میں آئندہ بھی ادبی تحقیق کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔

اس موقع پر سابق پروفیسر ڈاکٹر سی سید خلیل، تدریسی عملہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔


Share: