ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایک ہی نمبر پر متعدد ووٹر کارڈ، ٹی ایم سی کا احتجاج، 24 گھنٹوں میں غلطی تسلیم کرنے کا الٹی میٹم

ایک ہی نمبر پر متعدد ووٹر کارڈ، ٹی ایم سی کا احتجاج، 24 گھنٹوں میں غلطی تسلیم کرنے کا الٹی میٹم

Tue, 04 Mar 2025 10:15:45    S O News

نئی دہلی ،4/ مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ایک ہی نمبر والے متعدد ووٹر شناختی کارڈ کے معاملے کو ’’ووٹر لسٹ گھوٹالہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی نے 24 گھنٹوں کے اندر غلطی تسلیم کرنے، 100 دنوں میں ووٹر لسٹ کو تمام غلطیوں سے پاک کرنے اور فوری تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما ڈیرک اوبرائن نے سگاریکا گھوش اور کیرتی آزاد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ایسی بے شمار مثالیں پیش کیں، جہاں مختلف افراد کے ووٹر کارڈز پر ایک ہی نمبر درج ہے۔ ٹی ایم سی نے خاص طور پر مغربی بنگال کے رانی نگر حلقے اور ہریانہ کے بروالا حلقے کی 129 مثالیں پیش کیں، جہاں یہ سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو دی گئی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے وارننگ دی کہ اگر 24 گھنٹوں میں اپنی غلطی تسلیم نہ کی گئی تو منگل کے روز مزید شواہد پیش کیے جائیں گے، جو کمیشن کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ٹی ایم سی لیڈروں نے پیر کو کی گئی پریس کانفرنس میں عوام کے سامنے دستاویزی ثبوت پیش کئے۔ ایک معاملہ میں ایک ہی نمبر کے شناختی کارڈ  ہریانہ اور بنگال میں۳؍ الگ الگ ووٹرس کو  جاری کئے گئے ہیں۔ ۲؍ کارڈ ایک ہی نام سے ہریانہ اور بنگال میں الگ الگ جاری کئے گئے ہیں جبکہ تیسرے شخص کا کارڈ رانی نگر  حلقے سےجاری ہوا ہے۔  ڈیرک او برائن نے  بتایا کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ ایسے کئی معاملے ہیں جن میں بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں کے ووٹرز آئی ڈی کارڈ اور مغربی بنگال کے ووٹر آئی ڈی کارڈ کےنمبریکساں  ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صرف مغربی بنگال کے ووٹر ہی ریاست میں ووٹنگ کریں،اگر دوسری ریاستوں سے لوگوں کو ووٹنگ کیلئے لایا جائے گا تو یہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

ڈیرک اوبرائن نے مزید انکشاف کیا کہ الیکشن سے قبل تعمیراتی پراجیکٹ کا اعلان کیا جاتا ہے اور دیگر ریاستو سے تعمیراتی  مزدورلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ووٹنگ کریں۔اوبرائن نے  الیکشن کمیشن کو منگل ۹؍بجے صبح تک کا الٹی میٹم دیااور کہا کہ اگر اس نے اس دورانیہ میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کی تو مزید دستاویزات جاری کئے جائیں گے جس سے اس کی مزید رُسوائی ہوگی۔  انہوں  نےاتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی صفائی کو مسترد کرتے  ہوئے کہا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن غلطی کا اعتراف تو کررہا ہے مگر اسے مان نہیں رہاہے۔ اگر انہوں نے غلطی کو تسلیم نہ کیاتو ہم منگل کی صبح  ۹؍ بجے ایک دستاویز پیش کریں گے۔ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ مارچ، اپریل اور مئی ان تینوں مہینوں میں  ۱۰۰؍ دن کے اندر اندر انتخابی فہرست کو صاف کرلو۔‘‘

 ترنمول کانگریس لیڈر سگاریکا گھوش نے اسے گھوٹالہ قرا ردیتے ہوئے اس کی فوری جانچ کا مطالبہ کیا۔ا نہوں  نے کہا کہ ’’یہ گھوٹالہ، اسکینڈل اور مجرمانہ فعل ہے۔ (الیکشن کمیشن کی جانب سے ) صرف اخباری  بیان کافی نہیں ہے۔مکمل جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ بی جےپی میں کون اس کا ماسٹر مائنڈ ہے؟‘‘کیرتی آزاد نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن  حکومت کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔‘‘

الیکشن کمیشن نے اتوار کو مختلف ریاستوں میں ایک ہی  نمبر کے الگ الگ شناختی کارڈ کے معاملے کو تسلیم تو کرلیا مگر یہ صفائی دی کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ڈپلی کیٹ یا فرضی ووٹر ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں پریس ریلیز جاری کرکے جو منطق پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ نمبر بھلے ہی ایک ہو مگر دیگر تفصیلات  مثلاً اسمبلی حلقہ او ر پولنگ بوتھ الگ الگ ہوتے ہیں۔

کمیشن نے دعویٰ کیاکہ اس کی وجہ سے کسی بھی ووٹر کیلئے یہ ممکن نہیں  ہے کہ وہ اپنے اسمبلی حلقہ اور پولنگ بوتھ کے علاوہ کہیں اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ الیکشن کمیشن  نے اشکالات کو دور کرنےکی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ایک ہی نمبر کے دو الیکشن شناختی کارڈ  کے کسی بھی معاملے کو شناختی کارڈ کا منفرد نمبر‘‘ جاری کرکے دور کیا جاسکتاہے۔  ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کے اس جواب کو اقبال جرم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن نے جو نوٹ جاری کیا ہے وہ ممتا بنرجی نے جو کچھ کہا ہے اس کی توثیق کرتاہے۔‘‘ یاد رہے کہ ممتا بنرجی نے  ۲۷؍ فروری کو یہ معاملہ اٹھایا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ بنگال کے کئی ووٹرس کے شناختی کارڈ کے نمبر وہی ہیں جو  ہریانہ، گجرات اور راجستھان  میں  موجود ووٹرس  شناختی کارڈ کے ہیں۔ ممتا بنرجی کی دلیل ہے کہ یہ ووٹروں کے آن لائن اندراج کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ممتا نے ۲؍ اداروں کا نام بھی لیا ہے جنہیں ان کے مطابق بی جےپی نے رائے دہندگان کی فہرست میں چھیڑ چھاڑ کیلئے  بی جےپی نے باقاعدہ مامور کیا ہے۔


Share: