نئی دہلی، 12 اگست (ایس اونیوز): سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ بہار میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی اور سخت نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) اگر غیر قانونی یا قواعد کے خلاف ثابت ہوئی تو اسے منسوخ کر دیا جائے گا، چاہے یہ عمل مکمل ہی کیوں نہ ہو۔ عدالت کی طرف سے یہ تبصرہ اس وقت کیا گیا جب اس عمل کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں پر سماعت جاری تھی۔
سینئر وکیل کپل سبل، جو آر جے ڈی کے رکن پارلیمان منوج جھا کی نمائندگی کر رہے تھے، نے بتایا کہ یکم اگست کو جاری مسودہ ووٹر لسٹ سے تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، جو ان کے بقول غیر قانونی اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کے بیشتر لوگوں کے پاس وہ مخصوص دستاویزات نہیں ہیں جو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے ووٹر تصدیق کے لیے لازمی قرار دی ہیں۔
ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے بھی کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 65 لاکھ حذف شدہ ناموں کی فہرست شائع نہیں کی گئی، اور یہ وضاحت بھی نہیں دی گئی کہ کس کو موت یا ہجرت کی بنیاد پر ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست تک مسودہ آن لائن قابل تلاش تھا مگر بعد میں عوام کی رسائی روک دی گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ سیاسی جماعت کے بوتھ لیول ایجنٹ سے معلومات لو۔ انہوں نے عدالت سے سوال کیا کہ ایک عام شہری ناموں کی جانچ کےلئے کسی سیاسی پارٹی کے پاس کیوں جائے؟
اس دوران سیاسی کارکن اور تجزیہ کار یوگیندر یادو نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے دو ایسے افراد کو عدالت میں پیش کیا جنہیں مسودہ ووٹر لسٹ میں ’مردہ‘ قرار دیا گیا تھا، مگر وہ زندہ موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا حقِ رائے دہی سے محرومی کا معاملہ ہے آگے کہا کہ حذف شدہ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بوتھ لیول افسران نے گھر گھر جا کر نئے ووٹروں کا اندراج کرنے کے بجائے نام مٹانے پر توجہ دی، اور الیکشن کمیشن ایک بھی مثال پیش نہیں کر سکا کہ اس نظرثانی میں کسی نئے ووٹر کو شامل کیا گیا ہو۔ یادو نے مزید بتایا کہ 31 لاکھ خواتین اور 25 لاکھ مرد ووٹروں کے نام لسٹ سے مٹائے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل راکیش دویویدی نے تسلیم کیا کہ اس پیمانے کے کسی بھی عمل میں خامیاں ممکن ہیں، لیکن انہیں حتمی فہرست (30 ستمبر) سے قبل درست کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ یہ دو ’مردہ‘ ووٹروں کو پیش کرنا ایک ڈرامائی عمل ہے جو عام طور پر ٹی وی سیریل میں دیکھا جاتا ہے، عدالت میں مناسب نہیں۔
کچھ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ 2003 کے بعد رجسٹرڈ کروڑوں افراد کی شہریت پر شبہ کرنا اور انہیں محدود عرصے میں اپنی شہریت ثابت کرنے کا تقاضا، قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ عدالت نے انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور درستگی کو جمہوریت کے لیے بنیادی قرار دیا اور کہا کہ جب تک قانونی شکوک دور نہ ہوں، عدالت اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ اس کیس کی سماعت 13 اگست کو جاری رہے گی۔