نئی دہلی، 20/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز راشن کارڈ کے استعمال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا فائدہ صرف مستحق افراد تک ہی پہنچنا چاہیے۔ جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے غیر مقیم مزدوروں کو راشن کارڈ جاری کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران اہم نکات اٹھائے۔ عدالت نے کہا، ’’ہماری تشویش یہ ہے کہ کہیں وہ سہولت، جو درحقیقت غریبوں کے لیے ہے، ایسے افراد کو تو نہیں دی جا رہی جو اس کے اصل حقدار نہیں ہیں۔‘‘
عرضی دہندہ کے وکیل نے بتایا کہ ریاستوں کو پورٹل پر رجسٹرڈ لوگوں کی اہلیت کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا، "یہی تو ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں، یہ جانچ کرنے کے لیے کہ کیا راشن کارڈ پاپولریٹی کارڈ بن رہے ہیں۔" اس پر عرضی دہندگان کی طرف سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ تھوڑی بہت بدعنوانی ہر سرکاری منصوبہ میں ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ بے حد حساس معاملہ ہے کہ غریب لوگوں کو سبسیڈی کی شرح پر راشن ملے، تاکہ وہ کم سے کم دن میں دو وقت کا کھانا کھا سکیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ راشن کارڈ جاری کرنے میں کوئی سیاست کاری نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسے دیکھنا ہوگا کہ ریاست کی حکومتوں کے ذریعہ غریبوں کی پہچان کے لیے کوئی سائنسی ڈاٹا یا کوئی طے معیار اپنایا گیا ہے یا نہیں۔ پرشانت بھوشن کی اس دلیل پر کہ گھریلو سہائیکاؤں سمیت آس پاس کے لوگ بھی ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ وہ زمینی حقیقت سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں لگاتار فیڈ بیک ملتا رہتا ہے۔
پرشانت بھوشن نے کہا کہ ملک میں عدم مساوات کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ کسی کو ایک ایسا نظام لانا ہوگا جس سے یہ یقینی ہو سکے کہ حقیقت میں اہل لوگ ہی فائدہ حاصل کریں۔ اس پر پرشانت بھوشن نے جواب دیا کہ جو لوگ غیر اہل ہیں ان کی پہچان کرنے میں برسوں لگ جائیں گے اور اس درمیان 95 فیصد اہل لوگ اس فائدہ سے محروم رہ جائیں گے۔
اس معاملے میں مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ صحیح اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔ عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سے کہا کہ وہ دستیاب ڈاٹا کو ساجھا کریں تاکہ اس سے معاملے کی گہری جانچ ہو سکے۔