ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: لاوارث مویشی اور کتوں کو عوامی مقامات سے ہٹانے کے حکم کے باوجود کیا اُتر کنڑا میں ہوگا مؤثر اطلاق؟

بھٹکل: لاوارث مویشی اور کتوں کو عوامی مقامات سے ہٹانے کے حکم کے باوجود کیا اُتر کنڑا میں ہوگا مؤثر اطلاق؟

Wed, 12 Nov 2025 11:04:52    S O News

بھٹکل، 12 نومبر (ایس او نیوز): بھٹکل سمیت پورے ساحلی کرناٹکا میں آوارہ کتوں اور مویشیوں کی بھرمار نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ نیشنل ہائی وے پر بے قابو گھومتے مویشی اور گلی کوچوں میں جھنڈ بنا کر گھومتے آوارہ کتے اب ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ یہ کتے اچانک راہگیروں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف بچے، بوڑھے اور خواتین بلکہ جوان لوگ بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

ایسے میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے تحت ہائی ویز، اسکول، اسپتال، بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن جیسے عوامی مقامات سے آوارہ مویشیوں اور کتوں کو ہٹانے اور انہیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم سنایا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد ہر صورت میں لازمی ہوگا۔ اس فیصلے سے عوام نے وقتی طور پر راحت کی سانس لی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اتر کنڑا جیسے اضلاع میں، جہاں ایک جانب ساحلی پٹی اور دوسری جانب گھنے جنگلات ہیں، وہاں ان آوارہ جانوروں کو منتقل کرنے کا عمل کس حد تک ممکن ہو پائے گا؟

صورت حال یہ ہے کہ ان لاوارث مویشیوں اور آوارہ کتوں نے ملک بھر میں لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بچے ہوں یا بوڑھے، مرد ہوں یا خواتین — کوئی بھی ان کے نشانے سے محفوظ نہیں۔ سرکاری افسران اس بڑھتے مسئلے کے حل کے معاملے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ عوام بارہا شکایتیں درج کراتے ہیں، یاد دہانیاں کرواتے ہیں، مگر محکمہ جاتی افسران قانونی پیچیدگیوں اور پالیسی کے بہانے بنا کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ریاست کیرالہ سے داخل کی گئی ایک اپیل کے بعد سنایا گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ صرف کیرالہ میں ہی 1.2 لاکھ افراد کتوں کے حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔ پی۔ای۔ڈبلیو نامی ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں دو کروڑ افراد کو کتوں کے حملوں سے متاثر ہونا پڑا۔ 2023 کے اعداد و شمار مزید تشویشناک ہیں — جن کے مطابق شاہراہوں پر ہونے والے 30 سے زائد حادثات ایسے تھے جو لاوارث مویشیوں یا جانوروں کی وجہ سے پیش آئے۔

اب سپریم کورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومت اور نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی آف انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ اتر کنڑا ضلع میں یہ مسئلہ خصوصاً ساحلی تعلقہ جات میں سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ کاروار سے لے کر بھٹکل تک سفر کریں تو ایک طرف سڑکوں پر آوارہ کتوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف نیشنل ہائی وے پر مویشیوں کا قبضہ دکھائی دیتا ہے۔ گاؤں اور قصبوں کے اندر بھی یہی منظرنامہ ہے — ہر طرف مویشی بکھرے ہوئے، اور عوام کے لیے روزمرہ کی زندگی کو خطرناک بناتے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف کتوں کے حملوں سے لوگ زخمی ہو رہے ہیں بلکہ مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں جان و مال دونوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے سلسلے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان آوارہ جانوروں کو عوامی مقامات سے ہٹا کر انہیں ایسے محفوظ مقامات پر رکھا جائے جہاں سے وہ دوبارہ سڑکوں اور بستیوں میں واپس نہ آ سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکاری محکمے اس اہم فیصلے پر کتنی سنجیدگی سے عمل کرتے ہیں اور عوام کو اس سنگین مسئلے سے کب تک نجات دلا پاتے ہیں۔


Share: